برطانیہ: خفیہ ادارے کا انتباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کی سربراہ نے کہا ہے کہ 1600 سے زیادہ برطانوی مسلمان دہشت گرد منصوبوں میں ملوث ہیں اور ان کے ادارے کو ایسے کم از کم تیس منصوبوں کا علم ہے ۔ خفیہ ادارے کی سربراہ ڈیم ایلیزا مینِنگھم بٹلر نے یہ بات جمعرات کو دانشوروں کے ایک اجتماع سے تقریر کرتے ہوئے کہی۔ خفیہ ادارے کی یہ بریفنگ دہشت گرد دھیرن باروٹ کے مقدمے کے اختتام کے تین دن بعد کی گئی ہے۔ دھیرن باروٹ لندن سے تعلق رکھنے والا ایک نو مسلم ہے جس نے لندن پر حملوں کے کئی تفصیلی منصوبے تیار کیے تھے۔ خفیہ ادارے کی سربراہ نےکہا کہ دہشت گردی کے کچھ منصوبے کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔ خفیہ ادارے کی سربراہ نے کہا کہ نوجوان برطانوی مسلمان دہشت گردوں کی خاموش حمایت سے آگے بڑھ کر عملاً دہشت گردی میں ملوث ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں دہشت گردوں کے دو سو ایسے گروہ ہیں۔ ان گروہوں میں سے کچھ کے پاکستان میں القاعدہ کی قیادت سے روابط ہیں اور وہ وہاں سے ہدایت لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ گروہ اسامہ بن لادن سے متاثر ہیں اور اپنے طور پر ان کے مقصد آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑا خدشہ اب یہ بھی ہے کہ آئندہ کے دہشت گرد منصوبوں میں کیمیائی یا جوہری مواد استعمال کیا جائے گا۔ MI 5 کی سربراہ نے کہا کہ برطانیہ کے خفیہ ادارے سات جولائی 2005 میں لندن بم دھماکوں کے بعد دہشت گردی کے کم از کم پانچ منصوبے ناکام بنا چکے ہیں جن میں سینکڑوں لوگوں کی جان جا سکتی تھی۔ | اسی بارے میں ’لندن حملوں کی وجہ عراق نہیں‘26 July, 2005 | آس پاس برطانیہ بدر کرنے کے نئے قوائد24 August, 2005 | آس پاس لندن مشتبہ بمباروں کی نئی ویڈیو25 July, 2005 | آس پاس دہشتگردی: نئے قانون کا بل منظور16 February, 2006 | آس پاس ’اسلامی دنیا کو بحران کا سامنا‘08 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||