’اسلامی دنیا کو بحران کا سامنا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) کے رہنماؤں نے سعودی عرب میں ایک اجلاس کے بعد ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر، اسلامی دنیا کو ایک بحران کا سامنا ہے۔ تنظیم کے اختتامی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معمول اور اعتدال سے ہٹے ہوئے خیالات سے جنگ کے لیے فیصلہ کن مرحلہ آ گیا ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی پر اکسانے اور اس کی مالی معاونت کرنے کو جرم بنانے کے لیے ملکی قوانین میں تبدیلی کی جائے اور انتہا پسند خیالات سے بچنے کے لیے سکولوں میں نیا نصاب متعارف کرایا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فتویٰ صرف وہ لوگ دیں جنہیں ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ بی بی سی کے ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بارے میں شکوک ختم نہیں ہو سکیں ہیں کہ کیا (او آئی سی) اپنے مقاصد کو پورا کر سکتی ہے یا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تنظیم کے اکثر اجلاس میں خطیبانہ باتیں تو ہوا کرتی ہیں لیکن عملی طور پر کچھ سامنے نہیں آتا۔ سعودی عرب سے صحافی راشد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ تنظیم کے مطابق ’ہم سب دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اکٹھے ہیں۔‘ مسلم معاشروں سے انتہا پسند خیالات کے خاتمے کے لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ نصاب میں تبدیلی کی جائے۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق تھا کہ تنظیم میں ایک نئی روح پھونکنے کی ضرورت ہے۔ ایک تجویز یہ پیش کی گئی کہ تنظیم کا ہر رکن ملک اپنی قومی پیداوار کا کچھ حصہ تنظیم کو دے تاکہ اس کا بجٹ بڑھ سکے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ہر ملک اپنی قومی پیداوار کا کم ازکم 0.010 حصہ (او آئی سی) کو دے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم قومی پیداوار کا 0.005 حصہ تنظیم کو دیا جائے۔ | اسی بارے میں مسلمانوں کی پسماندگی14 June, 2004 | آس پاس ’اسرائیلی اور فلسطینی احمق ہیں‘23 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||