BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 June, 2004, 20:17 GMT 01:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلمانوں کی پسماندگی
او آئی سی
او آئی سی کا اجلاس
اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سربراہ نےاستنبول کے اجلاس میں اسلامی دنیا کی پسماندگی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل عبدلواحد بلک عزیز نے ترکی میں تنظیم کے اجلاس میں اسلامی دنیا پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے مسلم دنیا میں شدت پسندی کی وجہ اسلامی برادری میں ’بے بسی‘ کو ٹھہرایا۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے عراق میں نئی حکومت کے لیے اسلامی دنیا کی حمایت چاہی۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے ستاون ملکوں کے وزراء خارجہ کو بتایا کہ ان کے ملکوں میں تعلیم، صحت اور معاشی حوالے سے بہت پست حالی ہے۔

انہوں نے کہا ’تمام اسلامی ممالک کی مجموعی قومی پیداوار کسی بھی ایک ترقی یافتہ ملک جیسے فرانس یا برطانیہ سے کم ہے‘۔

بلک عزیز نے اپنے خطاب کو اسلامی دنیا کی کمزوریوں اور خامیوں پر مرکوز رکھا اور کہا کہ ان کے ماضی اور حال میں بہت تضاد پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج اسلامی برادری پستی، ٹوٹ پھوٹ، اور کمزوری کے احساس کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا ’ اسلامی دنیا جس بے بسی کے تجربے سے گزر رہی ہے اور اپنے جائز مسائل کا حل ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے اس کی وجہ سے دہشت پسندی میں اضافہ ہوا ہے‘۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ان حالات میں انتہا پسندوں کو نفرت انگیز کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ اسی لیے ہمیں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مستقل مزاجی سے کام لینا ہوگا تا کہ دنیا اسلام کی ایک اچھی شبیہہ پیش کی جا سکے۔

ڈاکٹر بلک عزیز نے دنیا میں صورتحال کی بہتری کے لیے وسیع اصلاحات پر زور دیا۔

عراق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدر براہیمی نے اجلاس میں سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا ایک بیان پڑھا جس میں انہوں نے کہا کہ عراق ایک ’ناکام ملک‘ نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا ’آپ سب کا فرض کہ عراق کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے اس کی مدد کریں تاکہ انتخابات کے لیے سازگار حالات پیدا ہو سکیں‘۔ انہوں نے تمام حکومتوں سے اپیل کی اس مقصد کے لیے ایک مثبت قدم اٹھائیں۔

توقع ہے کہ عراق اور وہاں پر جمہوریت کی بحالی استنبول کے اجلاس میں غالب ر ہیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد