شدت پسندی سے دور رہنے کی تلقین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے ’روشن خیال اعتدال پسند، نظریہ کے بارے مں ایک مضمون لکھا ہے جو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے علاوہ بدھ کے روز بیشتر پاکستانی اخبارات میں بھی نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ 80 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف مغرب کی حمایت سے افغانستان میں کارروائیوں سے اسلامی دنیا میں عسکریت پسندی کو فروغ ملا ورنہ اس سے قبل اسلامی دنیا میں تشویش اور بے چینی کا باعث صرف مسئلہ فلسطین تھا۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد افغانستان کے بعد یہ سلسلہ چیچنیا، بوسنیا اور دیگر ممالک تک پھیل گیا۔ جنرل مشرف لکھتے ہیں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عسکریت پسند گروہوں کو ختم کرنا چاہیے تھا لیکن نوے کی دہائی میں انہیں کھلی چھٹی دی گئی اور افغانستان میں دنیا بھر کے جنگجو جمع ہوگئے۔ جنرل مشرف نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ نشاۃ ثانیہ کی گھڑی آن پہنچی ہے، حیات نو کا راستہ وہ ہے جو روشن خیالی، اور جو تمام توانائیاں غربت کے خاتمے عدل و انصاف کے مثالی نظام کے فروغ کی طرف جاتا ہے وہ اپنانا ہوگا۔‘ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ وہ کشمکش اور شدت پسندی کو مسترد کردیں، اسلام کے نام پر ایسی کارروائیوں کی مخالفت کی جائے کیونکہ اسلام کا انتہا و شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو فعال بنا کر اس کے ذریعے نئے راستے پر چلنے کو ممکن بنایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے تمام اسلامی ممالک کو آگے آنا ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||