| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
او آئی سی پرواجپئی کی تنقید
بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے اسلامی کانفرنس تنظیم کے اس مطالبے پر شدید تنقید کی ہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے باسیوں کو حق خودارادیت دیاجائے۔ انہوں نے اسلامی کانفرنس تنظیم کے مطالبے پر یہ ردعمل شمالی ہندوستان کی ریاست ہریانہ کے شہر پانی پت میں ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر ظاہر کیا۔ پانی پت سے بی بی سی کے نامہ نگار اسیت جولی کے مطابق کشمیریوں کے لیے حق خوداردیت کے مطالبے پر بھارتی وزیراعظم کا ردعمل بہت شدید تھا اور انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ پاکستان کو حق خودارادیت کا معاملہ اٹھانے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے کہا: ’پاکستان میں نہ تو جمہوریت ہے اور نہ ہی ایک منتخب حکومت‘۔اس حوالے سے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک منتخب رہنما کے طور پر وہ صرف اسی وقت تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں جب تک بھارت کے عوام ایسا چاہیں۔
تنازعۂ کشمیر کے تناطر میں اٹل بہاری واجپئی نے ایک بار پھر پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر پر بھارتی دعوے کو دہرایا اور کہا کہ یہ معاملہ بھی پاکستان کے ساتھ کسی بھی مذاکرات میں لازماً شامل ہونا چاہیے۔ بھارتی وزیراعظم نے کہا کے ہندوستان کی جانب سے بار بار کے امن اقدامات کے باوجود پاکستان کشمیر کے سوا اور کسی موضوع پر بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی طرح کی دوستی کے رشتے استوار کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ اٹل بہاری واجپئی کے یہ تقریر اپریل میں ان کی جانب سے پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے بعد سے ان کے اب تک کے موقف سے بظاہر ایک انحراف دکھائی دیتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||