لندن کے مسلمانوں پر نئی رپورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے میئر نے برطانیہ کے مسلمانوں سے کہا ہے کہ انہیں سیاست اور معیشت میں اپنا کردار بڑھانا چاہیے تاکہ ان کے خلاف تعصب اور امتیازی سلوک کو ختم کیا جا سکے۔ لندن کے میئر کین لوِنگسٹون نے یہ بات لندن میں رہنے والے مسلمانوں پر تیار ہونے والی اس پہلی رپورٹ کو پیش کرتے ہوئے کہی۔ لندن کے مسلمانوں پر تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق شہر کی مسلمان آبادی لندن کی کُل آبادی کا ساڑھے آٹھ فیصد ہے لیکن اس تعداد کی عکاسی سرکاری یا سیاسی سطح پر نہیں ہو رہی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمام مذھبی گروپوں میں سے مسلمانوں میں شرح بے روزگاری سب سے زیادہ ہے اور مسلمانوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ لندن کے میئر نے رپورٹ کو اہم قرار دیتے ہوئے یہ امید ظاہر کی کہ اس سے مختلف گروپوں کے درمیان مفاہمت بڑھ سکے گی اور مسلمانوں کے مسائل اور نظریات سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ رپورٹ مسلمانوں کے خلاف منافرت کے خاتمے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں بلیئر سے برطانوی مسلمانوں کا مطالبہ12 August, 2006 | آس پاس جلباب کے خلاف فیصلہ23 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||