BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 September, 2006, 01:04 GMT 06:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایک سال اور مگر تاریخ نہیں‘
 ٹونی بلیئر
بلیئر کے حامیوں نے کہا کہ ان کے خلاف گورڈن براؤن کی ایما پر مہم چلائی جا رہی ہے
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ وہ ایک سال کے اندر وزیر اعظم کے عہدے سے علیحدہ ہو جائیں گے تاہم انہوں نے اس بارے میں کس خاص تاریخ کا تعین کرنے سے انکار کر دیا۔

حکمران لیبر پارٹی کے چند ارکان کے حکومتی عہدوں سے مستعفی ہونے کے بعد
انہوں نے کہا کہ آئندہ لیبر پارٹی کی کانفرنس ان کی بحیثیت وزیر اعظم آخری کانفرنس ہو گی ۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ کا معاملہ ان پر چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہی ملک کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات سے پہلے ہو اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں گے۔

ٹونی بلیئر پر ان کی جماعت کے ارکان کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اقتدار چھوڑنے کی تاریخ کا اعلان کریں۔

انہوں نے کہا کہ لیبر جماعت کی ایک بڑی اکثریت اس بات کو سمجھتی ہے کہ تاریخ کا تعین کرنا ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں اور حکومت کو ملک کو درپیش اہم امور پر توجہ دینی چاہیے۔

خیال ہے کہ وہ جیسا ان کے دوستوں نے کہا ہے سن دو ہزار سات کی خزاں میں لیبر پارٹی کانفرنس کے موقع پر عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔

دریں اثنا سابق وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے چانسلرگورڈن براؤن اور ان کے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ وہ بلیئر کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوششیں بند کر دیں۔

بلنکٹ نے یہ اپیل بلیئر حکومت کے آٹھ جونیئر ارکان کی جانب سے استعفوں کے بعد کی۔ یہ ارکان لیبر پارٹی کے وفادار سمجھے جانے والے ان ارکان میں شامل ہیں جو سن دو ہزار ایک میں منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے ایک خط میں بلیئر سے مستعفی ہونے کی اپیل کی ہے۔

چانسلر گورڈن کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک نے بی بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ گورڈن کاخیال ہے کہ اس بارے میں ایک عوامی بیان جاری ہونا چاہیے۔

ٹونی بلیئر کے حامی ارکان کا کہنا ہے کہ یہ سارا کچھ براؤن کی ایما پر ہو رہا ہے۔ چانسلر براؤن نے ابھی تک اس موضوع پر بات نہیں کی۔

برطانوی اخبار ’دی سن‘ کا کہنا ہے کہ بلیئر اگلے سال مئی تک اقتدار چھوڑ دیں گے۔ دس ڈاؤننگ سٹریٹ نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

تاہم گورڈن کے اہم حمایتی رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بلیئر کو اپنی روانگی کے بارے میں بتانا چاہیے اور اس سلسلے میں انہیں لوگوں کے سامنے آ کر اس بات کا اعلان کرنا چاہیے۔

سابق وزیر ڈوگ ہینڈرسن جو خود بھی براؤن کی حمایت کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ اگلے بارہ ماہ میں بلیئر کیا حاصل کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے آخر تک لوگوں کے سامنے ایک نیا لیڈر آ جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ اگلے سال اپریل میں مقامی انتخابات متوقع ہیں۔

بلئیر کے اپنا عہدہ چھوڑنے کے بارے میں متضاد اطلاعات اس وقت شروع ہوئیں جب لیبر پارٹی کے وفادار سمجھے جانے والے سترہ ارکان پارلیمان نے ایک خط میں بلیئر کو غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کے لیئے عہدے سے سبکدوش ہونے کے لیئے کہا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد