مخالفت کے باوجود اصلاحات: بلیئر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ مذہبی منافرت کے قوانین پر پارلیمان میں دگنی شکست کے باوجود بھی وہ اصلاحات کا پروگرام جاری رکھیں گے۔ بلیئر کے سوال پر ٹوری رہنما ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ اصلاحات کا پروگرام صرف اس صورت میں ممکن ہوسکتا ہے کہ اگر وہ صحیح ہو اور اسے ٹوری کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم بلیئر کا کہنا تھا کہ سکول، مزدور اور پولیس سے متعلق اصلاحات پر انہیں حمایت حاصل ہوگی۔ منگل کے روز دوسری مرتبہ وزیر اعظم کو کامنز کی جانب سے بطور وزیر اعظم شکست کا سامنا ہوا ہے۔ ان کا دوسرا کمزور نقطہ دہشتگردی کے ملزمان کی عدالتی کارروائی کے بغیر حراست ثابت ہوا۔ ابھی بلیئر کو تعلیم اور شناختی کارڈ کے شعبوں میں مزید مخالفتوں کا سامنا ہوگا۔ بلیئر کا کہنا ہے کہ وہ اصلاحات کا عمل جاری رکھیں گے کیونکہ ان کے خیال میں اسی میں ملک کی بہتری ہے۔ بلیئر کے مذہبی منافرت سے متعلق قانون کے بل کے خلاف چند حلقوں نے متحد ہوکت مظاہرہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے آزادی اظہار میں خلل آئے گا۔ نسلی منافرت سے متعلق موجودہ قانون میں سکھوں اور یہودیوں کو تحفظ حاصل ہے جبکہ نیا قانون عیسائیوں اور مسلمانوں کو بھی ان کے اعتقاد کی بنیاد پر تحفظ فراہم کرے گا۔ اس بل پر 282 ووٹ حکومت کے حق میں تھے جبکہ 283 اس کے مخالف۔ | اسی بارے میں ’بڑا چیلنج، دہشتگردی ہے‘31 January, 2006 | آس پاس بلیئر کے ’شیر‘ کے اغوا کا منصوبہ 18 January, 2006 | آس پاس برطانوی وزیراعظم عراق پہنچ گئے22 December, 2005 | آس پاس یورپی اتحاد کے بجٹ پر اتفاق17 December, 2005 | آس پاس ’تاریخی‘ انتخابات پر خراجِ تحسین16 December, 2005 | آس پاس الجزیرہ کا ٹونی بلیئر کو خط26 November, 2005 | آس پاس ’بش الجزیرہ پر حملہ چاہتے تھے‘22 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||