جوہری نظام پر بلیئر کی سفارشات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر ملک کے جوہری اسلحے کو جدید بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے بیس بلین پاؤنڈ لی لاگت کے اس منصوبے کی تفصیلات سے اراکینِ پارلیمان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آبدوزوں کی تعداد میں چار سے تین کی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی ان پر نصب کیے جانے والے ہتھیاروں کی تعداد کو بیس فیصد گھٹایا جا سکتا ہے۔ برطانیہ کے پاس ’ٹرائیڈنٹ بلاسٹک میزائیل‘ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے صرف چار آب دوزیں ہیں جن کے کام کرنے کی مدت صرف اگلے پندرہ سال تک ہے۔ بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جوہری اسلحہ کے مخالفین کی تنقید کے باوجود، جن میں سے کچھ لیبر پارٹی میں بھی موجود ہیں، حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ برطانیہ جوہری طاقت رہے گا۔ ٹونی بلیئر نے کہا اگرچہ سرد جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے تاہم برطانیہ کو جوہری ہتھیاروں کی ضروت ہے کیونکہ یہ بات یقینی نہیں ہے کہ مستقبل میں جوہری خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ زمین پر یا فضا میں جوہری ہتھیاروں کے نظام کو زیرِ استعمال رکھنے کے منصوبوں پر غور کیا گیا تھا لیکن انہیں مسترد کر دیا گیا ہے۔ لہذا یہ نظام اب آبدوزوں کے ایک بیڑے پر نصب رہے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امید کی جا رہی ہے کہ ’ٹرائیڈنٹ بلاسٹک میزائیل‘ یا مستقبل میں آنے والے اور قسموں کے میزائل مار کرنے کے لیے نئی آب دوزیں لینے کا فیصلہ آئندہ تین ماہ کے دوران اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث اور ووٹنگ کے بعد کیا جائے گا۔ چانسلر گورڈن براؤن، جن کے بارے میں پیشن گوئی کی جارہی ہے کہ وہ برطانیہ کے اگلے وزیراعظم ہوں گے، بھی اس بات کی حمایت کر رہے ہیں کہ برطانیہ کو اپنا جوہری ہتھیاروں کے نظام برقرار رکھنا چاہیے۔ | اسی بارے میں ’فوج کو تمام وسائل مہیا کریں گے‘07 October, 2006 | آس پاس ایم فائیو کا انتباہ حقیقی ہے: بلیر10 November, 2006 | آس پاس شام اورایران سے کوئی نرمی نہیں14 November, 2006 | آس پاس عراق پر ٹونی بلیئر کا اعتراف18 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||