BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 May, 2006, 00:26 GMT 05:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی اداروں میں اصلاحات: بلیئر
سلامتی کونسل دور جدید کی نمائندہ نہیں: ٹونی بلیئر
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں دورِ جدید کی ضروریات کی مناسبت سے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ انہیں مؤثر بنایا جاسکے۔

امریکہ میں اپنے ایک اہم خطاب کے دوران ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل کو مزید اختیارات دینے پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ بین الاقوامی مسائل میں اقوام متحدہ فعال ثابت ہوسکے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے ایک ترجمان نے ٹونی بلیئر کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران برطانوی وزیراعظم نے ورلڈ بینک اور مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف میں اصلاحات کی بھی بات کی۔

کونسل کی موجودہ شکل نمائندہ
 سلامتی کونسل کی موجودہ شکل نمائندہ نہیں کہی جاسکتی کیوں کہ اس میں جرمنی، جاپان اور انڈیا شامل نہیں ہیں۔ کونسل میں لاطینی امریکی ممالک اور افریقی ملکوں کی نمائندگی کی بھی ضرورت ہے۔
وزیراعظم ٹونی بلیئر
ٹونی بلیئر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی موجودہ شکل نمائندہ نہیں کہی جاسکتی کیوں کہ اس میں جرمنی، جاپان اور انڈیا شامل نہیں ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے سلامتی کونسل میں لاطینی امریکی ممالک اور افریقی ملکوں کی نمائندگی کی بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلیاں دور جدید کے بدلے ہوئے حالات کی نمائندگی کے لیے ضروری ہیں۔

ٹونی بلیئر نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں تبدیلیوں کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ایران، حماس اور آئی اے ای اے کے بارے میں بھی باتیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں وسیع تر سلامتی کے لیے ایران کو بدلنا ہوا۔ انہوں نے کہا: ’میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ (ایران پر) تبدیلی تھوپ دی جائے گی۔‘ آئی اے ای اے کےبارے میں ٹونی بلیئر نے مشورہ دیا کہ اسے یورینیم کا ایک بینک قائم کرنا ہوگا جہاں سے توانائی کے لیے تمام ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی مل سکے۔

حماس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اپنے موقف کو ترک کرنا ہوگا تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ایک سمجھوتے کے لیے بات چیت شرو ع ہوسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد