’بلئیر بش پر اثر انداز نہ ہو سکے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی خارجہ پالیسی کے تھِنک ٹینک چیٹھم ہاؤس کی جاری ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ امریکہ سے قریبی تعلقات اور وفاداری کے باوجود بش انتظامیہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے اور عراق سے جنگ بلیئر کی خارجہ پالیسی کی بہت بڑی غلطی تھی۔ چیٹھم ہاؤس کے سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر وکٹر تھامس نے ٹونی بلیئر کی 10 سالہ خارجہ پالیسی کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے عالمی سیاست میں کسی دوسرے ملک کے ساتھ وفاداری سے کچھ زیادہ حاصل وصول نہیں ہوتا اسی لیے مسٹر بلیئر کے بعد آنے والے کو یورپی یونین سے قریبی تعلقات پر زیادہ زور اور امریکہ سے خود کو دور کر کے اپنی شناخت قائم کرنی ہو گی۔ رپورٹ میں عراق پر حملے فاش غلطی قرار دیا گیا ہے اور اس امر کو ناقابل معافی بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ مجتمع ہونے کے نتائج سے بھی مستر بلیئر کو تاخیر سے آگاہی ہوئی۔ تا ہم اس رپورٹ میں موحولیاتی تبدیلی کے ضمن میں انکی کوششوں کی تعریف کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں محمود عباس کا جلد انتخابات کا اعادہ18 December, 2006 | آس پاس بحالی امن کی نئی کوشش 18 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||