گم گشتہ آرزوئیں، معدوم توقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو مئی انیس سو ستانوے میں تینتالیس سالہ ٹونی بلیئر کی قیادت میں نئے لبادے میں ملبوس لیبر پارٹی کی انتخابی فتح سے برطانیہ میں ٹوری پارٹی کی اٹھارہ سال سے جاری حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا۔ اس وقت برطانوی عوام کی اکثریت ٹوری پارٹی کی داخلی کشمکش سے بھرپور اور نئے نظریات سے تہی دامن ایک طویل دور سے اوبھ گئی تھی اور ایک نئی تبدیلی کے لیے بے تاب تھی۔ ایک سو پچاسی برس کے بعد ملک کے سب سے کم عمر سیاسی رہنما ٹونی بلیئر کی قیادت میں یکسر نئی لیبر پارٹی کی جیت،برطانوی عوام کی اس خواہش کی عین غماز تھی۔ اس وقت برطانوی عوام میں ایک انوکھا سیاسی جوش و جذبہ تھا، نئی اُمنگیں اور آرزوئیں تھیں اور اپنے ملک کے مستقبل کے تئیں نئی توقعات تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ دس برس کے دوران برطانیہ کی معیشت کو یورپ کے دوسرے ملکوں کی نسبت کہیں زیادہ فروغ حاصل ہوا ہے، بے روزگاری کم ہوئی ہے، سود کی شرح میں نمایاں تخفیف ہوئی ہے، مکانات کی ملکیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، افراطِ زر کی شرح کم رہی ہے اور عوام میں خوشحالی کا احساس نمایاں نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود ٹونی بلیئر کے اقتدار کے دس سال کی تکمیل پر ’سنڈے آبزرور‘ نے رائے عامہ کا جو جائزہ شائع کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سن انیس سو ستانوے میں نئی لیبر پارٹی کی انتخابی فتح کے وقت ٹونی بلیئر سے عوام کو جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں ہیں اور اس وقت برطانیہ پہلے سے زیادہ پر خطر، پہلے سے کم پر مسرت اور کم خوشگوار ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد افراد کے جائزہ میں پچاس فی صد کی یہ رائے ہے کہ ٹونی بلیئر ناقابل اعتماد ہیں اور ستاون فی صد کا یہ خیال ہے کہ وہ وقت سے زیادہ اقتدار میں رہے ہیں۔
عوام کی اس بد اعتمادی اور بدگمانی کی وجہ کیا ہے؟ بیشتر مبصرین کی رائے سن ستاون کے انتخابات جیتنے کے فوراً بعد وزیراعظم ٹونی بلیئر نے تین باتوں پر ساٹھ سال قبل لیبر حکومت نے سماجی بہبود کا جو قابل فخر نظام رائج کیا تھا یونیورسٹی فیسوں کا نظام اس نظریہ کے یکسر خلاف ہے۔ جہاں تک اخلاقی اصول پرستی کی بنیاد پر خارجہ پالیسی وضع کرنے اور سیاست سے بدعنوانی کے خاتمہ کے عزم کا تعلق ہے اس میں ٹونی بلیئر کو صریح ناکامی کا سامنا کرنا پڑاہے۔ رقم کے عوض خطابات کے سکینڈل نے ٹونی بلیئر اور ان کی حکومت پر ایسا دھبہ لگایا ہے کہ برسوں اسے نہ مٹایا جا سکے گا۔ ٹونی بلیئر برطانیہ کی تاریخ میں پہلے بر سر عہدہ وزیراعظم ہیں جن سے پولیس نے اس سکینڈل کے بارے میں دو بار پوچھ گچھ کی ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ ان کے قریبی معتمدوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شمالی آئرلینڈ میں خانہ جنگی اور دہشت گردی کے خاتمہ اور آئرش ریپبلکن آرمی کو اسلحہ اور عکسریت پرستی ترک کرنے اور سیاسی منجدھار میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کا سہرا ٹونی بلئیر اپنے سر لے سکتے ہیں اور ان کے دور کو اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں اسمبلیوں کے قیام اور علاقائی سطح پر اختیارات کی تفویض کے سلسلہ میں یاد رکھا جائے گا لیکن پارلیمنٹ کے ایوان بالا دارالامرا کو کلی منتخب ادارہ بنانے کے بارے میں آئینی اصلاح کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ برطانوی سیاست میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ٹونی بلیئر کے ہیٹ میں سرخاب کا پر تصور کیا جائے گا۔ ان کے دور سے پہلے لیبر پارٹی کی صرف سینتیس خواتین رکن پارلیمان تھیں۔ بلیئر کے دور میں یہ تعداد ایک سو ایک تک پہنچ گئی۔ یہ صحیح ہے کہ مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں اضافہ ٹونی بلیئر کے دور کی ایک کامیابی تصور کیا جاتا ہے لیکن عام تاثر یہ ہے کہ انہوں نے لیبر پارٹی کے بنیادی نظریات ترک کرکے مسز تھیچر کی قدامت پسند پالیسیوں کو نئی لیبر پارٹی کی پالیسیوں کے نام سے آگے بڑھایا اور نج کاری کو فروغ دیا اور گلوبلائیزیشن کی آڑ میں سرمایہ داری کےنظام کو قبول کیا۔ ان کے دور میں ایک خاموش لیکن نہایت اہم اور بنیادی تبدیلی یہ آئی ہے کہ وہ صنعتی محنت کش طبقہ جو ہمیشہ لیبر پارٹی کی بنیاد رہا ہے اب یہ طبقہ سیاسی قوت کے لحاظ سے اقلیت بن گیا ہے اور ملک بڑی حد تک متوسط طبقہ کی اکثریت والا ملک بن گیا ہے۔ اسی وجہ سے لیبر پارٹی میں ایک انقلابی تبدیلی رونما ہوئی ہے اور بہت سے لوگوں کے نزدیک اسی بنا پر پارٹی انتخابات جیتنے کے قابل بنی۔ بعض مبصر یہ بھی کہتے ہیں کہ ٹونی بلیئر نے لیبر پارٹی کو نیا لبادہ اڑا کر تین بار عام انتخابات تو جیت لیے لیکن پارٹی کو اندر سے نظریاتی اعتبار سے کھوکھلا کر دیا۔
بلاشبہ یکے بعد دیگرے تین عام انتخابات میں فتح، بہترین معیشت اور خوشحالی کی سمت گامزن برطانیہ کی کامرانی کی صورت میں جو اعزاز ٹونی بلیئر کو حاصل ہوا تھا وہ افغانستان اور عراق کی جنگوں کی آگ میں جھلس کر رہ گیا۔ ان جنگوں کے لیے انہوں نے صدر بش کے ساتھ مل کر جو حیلے بہانےگڑھے اور دروغ گوئی کی حدوں کو چھوتی ہوئی جو تاویلیں پیش کیں اور عوام کی اکثریت کی مخالفت کو جس طرح ٹھکرایا اس کے پیش نظر ان جنگوں کی خون ریزی، تباہ کاری، عوام کے مصائب اور ان کے مہلک مضمرات ٹونی بلیئر کا طویل عرصے تک پیچھا کریں گے۔ صدر بش کے دامن سے وابستگی نے نہ صرف برطانیہ کی خارجہ پالیسی کو داغ دار کیا ہے بلکہ ٹونی بلیئر کے امیج کو بھی مسخ کر دیا ہے اور ان کو اپنے عزائم میں ناکام بنایا ہے۔ فلسطینوں کی ایک قابل عمل مملکت کے قیام کے لیے انہوں نے جو پیمان کیا تھا وہ امریکا اور صدر بش کے دامن سے چمٹے رہنے کی وجہ سے پورا نہ کر سکے کیونکہ اس معاملہ میں امریکا کے مفادات سے ٹکراؤ ناگزیر تھا جس کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔ ٹونی بلیئر کے برسر اقتدار آنے کے فوراً بعد لیبر حکومت نے اپنے انتخابی وعدہ کے مطابق حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے قانون منظور کیا تھا جس کا چار دانگ عالم میں ڈنکا بجا تھا لیکن سن دو ہزار کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے نام پر پے در پے تین قوانین نافذ کیے گئے جن کے ذریعہ وہ تمام انسانی حقوق اور شہری آزادیاں سلب کر لی گئیں جو سن اٹھانوے کے قانون کے تحت عوام کو ودیعت کی گئی تھیں۔ پچھلے چھ سال کے دوران نئے قوانین کے تحت ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان میں سے بیشتر اب بھی جیلوں میں بند ہیں۔
جولائی سن دو ہزار پانچ میں جب لندن میں خودکش حملے ہوئے تو ان کا دوش مسلم نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کو دیا گیا اور اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کردیا گیا کہ برطانیہ کے مسلم نوجوانوں میں شدت پسندی کی وجوہات ٹونی بلیئر کی خارجہ پالیسی اور افغانستان اور عراق کے خلاف جنگوں سے پیوست ہیں۔ ٹونی بلیئر ابھی تک یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔ برطانوی وزیراعظم کے دور کا آخری ایک سال بے یقینی اور لنگڑی بطخ ایسی بے عملی کا شکار رہا ہے۔ خود انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ پچھلے عام انتخابات سے پہلے انہوں نے تیسری معیاد کے دوران وزیر خزانہ گورڈن براؤن کے حق میں اپنے عہدے سے دست بردار ہونے کا اعلان کرکے غلطی کی تھی لیکن بہت سے مبصر کہتے ہیں کہ عام انتخاب جیتنے کے لیے یہ اعلان ضروری تھا ورنہ ٹونی بلیئر عراق جنگ کی وجہ سے پیدا شدہ بد اعتمادی کی بنا پر انتخابات ہار جاتے۔ دراصل انہوں نے گورڈن براؤن کی بیساکھی کا سہارا لیا۔ بارہ سال قبل ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا تھا کہ گورڈن براؤن ٹونی بلیئر کے مقابلہ پر انتخاب نہیں لڑیں گے اور ٹونی بلیئر آٹھ سال بعد اپنے عہدے سے دست بردار ہوجائیں گے۔ ٹونی بلیئر نے کوشش تو بہت کی اپنے اس پیمان کو ترک کرنے کی لیکن گورڈن براؤن کا پلہ بھاری رہا ہے۔ ٹونی بلیئر کی کوشش اب بھی پس پردہ یہی ہے کہ گورڈن براؤن کے مقابلہ پر اپنا امیداوار کھڑا کیا جائے۔ اس کوشش میں اگر ٹونی بلیئر کو کامیابی نہ ہوسکی تب بھی وہ گورڈن براؤن کے لیے سنگین اور پیچیدہ مسائل کا ایک پہاڑ چھوڑ کر جارہے ہیں جو گورڈن براؤن کی کمر توڑ کر رکھ سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’لندن حملوں کی وجہ عراق نہیں‘26 July, 2005 | آس پاس ’دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا‘19 July, 2005 | آس پاس ’ذمہ دار افراد کو ڈھونڈ نکالیں گے‘11 July, 2005 | آس پاس بلئر: نہ تووزیراعظم نہ ہی رکن پارلیمنٹ02 August, 2005 | آس پاس بلیئر سے استعفیٰ کا مطالبہ08 May, 2005 | آس پاس ’میں نے سنا ہے اور سیکھا ہے‘06 May, 2005 | آس پاس عراق دستاویز: بلیئر کا دفاع29 April, 2005 | آس پاس عراق پر ٹونی بلیئر کا اعتراف18 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||