 |  ٹونی بلئر کا کہنا ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے بعد وہ پارلیمنٹ کی پچھلی نششتوں پر بیٹھنے کی روایت کو آگے نہیں بڑھائیں گے |
آئندہ انتخاب میں وزیراعظم ٹونی بلئر حصہ نہیں لیں گے، اس لیے کہ وہ نہ تو وزیراعظم بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ رہنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے انتہائی قریبی دوست اور سیاسی ساتھی جون برٹن کا کہنا ہے کہ ٹونی بلئر نے اس بارے میں ان سے بات کی ہے اور وہ آئندہ انتخاب میں امیدوار بننے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ سجفیلڈ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والے ٹونی بلئر کا کہنا ہے کہ وہ تیسری مدت مکمل کرنے کے بعد نمبر دس رہنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ڈاؤننگ سٹریٹ نے نے اطلاعات کو غیر اہم قرار دیا ہے کہ ٹونی بلئر سیاست سے مکمل طور پر لاتعلق ہونا چاہتے ہیں۔ 1983 کے انتخابات سے قبل مسٹر ٹونی بلئر کے جوہر کو شناخت کرنے کا سہرا مسٹر برٹن کے سر باندھا جاتا ہے اور اس وقت ہی سے وہ سجفیلڈ میں ان کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ٹونی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ قیادت کا بستر باندھ رہے ہیں اور یہ ارداہ بھی نہیں رکھتے کہ پارلیمنٹ کی پچھلی نششتوں پر بیٹھیں۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ وہ آئندہ انتخاب میں امیدوار ہوں گے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر بلئر کو افریقہ سے بہت دلچسپی ہے اور غالباً وہ افریقہ کی ترقی میں حصہ لینا چاہیں گے۔ ڈاؤئننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ ’اس وقت تو ان کی ساری توجہ ملک کو درپیش حالیہ خطروں سے نمٹنے پر ہے‘۔ ویسٹ منسٹر کے افواہ ساز حلقے ہمیشہ اس بارے میں قیاس آرائیاں کرتے رہے ہیں کہ بلئر برطانوی وزارتِ عظمیٰ سے فراغت کے بعد کیا کریں گے اور ان کی پیش گوئی یہ ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ یا یورپی یونین میں کوئی کردار ادا کرنا زیادہ پسند کریں گے۔ |