BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 August, 2005, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلئر: نہ تووزیراعظم نہ ہی رکن پارلیمنٹ
ٹونی بلئر
ٹونی بلئر کا کہنا ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے بعد وہ پارلیمنٹ کی پچھلی نششتوں پر بیٹھنے کی روایت کو آگے نہیں بڑھائیں گے
آئندہ انتخاب میں وزیراعظم ٹونی بلئر حصہ نہیں لیں گے، اس لیے کہ وہ نہ تو وزیراعظم بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ رہنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم کے انتہائی قریبی دوست اور سیاسی ساتھی جون برٹن کا کہنا ہے کہ ٹونی بلئر نے اس بارے میں ان سے بات کی ہے اور وہ آئندہ انتخاب میں امیدوار بننے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

سجفیلڈ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والے ٹونی بلئر کا کہنا ہے کہ وہ تیسری مدت مکمل کرنے کے بعد نمبر دس رہنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ نے نے اطلاعات کو غیر اہم قرار دیا ہے کہ ٹونی بلئر سیاست سے مکمل طور پر لاتعلق ہونا چاہتے ہیں۔

1983 کے انتخابات سے قبل مسٹر ٹونی بلئر کے جوہر کو شناخت کرنے کا سہرا مسٹر برٹن کے سر باندھا جاتا ہے اور اس وقت ہی سے وہ سجفیلڈ میں ان کے ایجنٹ ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’ٹونی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ قیادت کا بستر باندھ رہے ہیں اور یہ ارداہ بھی نہیں رکھتے کہ پارلیمنٹ کی پچھلی نششتوں پر بیٹھیں۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ وہ آئندہ انتخاب میں امیدوار ہوں گے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ مسٹر بلئر کو افریقہ سے بہت دلچسپی ہے اور غالباً وہ افریقہ کی ترقی میں حصہ لینا چاہیں گے۔

ڈاؤئننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ ’اس وقت تو ان کی ساری توجہ ملک کو درپیش حالیہ خطروں سے نمٹنے پر ہے‘۔

ویسٹ منسٹر کے افواہ ساز حلقے ہمیشہ اس بارے میں قیاس آرائیاں کرتے رہے ہیں کہ بلئر برطانوی وزارتِ عظمیٰ سے فراغت کے بعد کیا کریں گے اور ان کی پیش گوئی یہ ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ یا یورپی یونین میں کوئی کردار ادا کرنا زیادہ پسند کریں گے۔

66بلیئر کا بناؤ سنگھار
ٹونی بلیئر کے میک اپ کا خرچہ 1800 پونڈ
66بلئیرایشیائی ردعمل
لیبر کی ہیٹرک پر ٹونی بلئیر کو مبارکباد
برطانوی لیبر پارٹی
محنت کشوں کی پہلی پارٹی تاریخ کے تناظر میں
66برطانیہ کون آئے؟
صرف وہ جس کی برطانیہ کو ضرورت ہو: بلیئر
66بلیئر پر تنقید
سابق سفارت کار بلیئر کی پالیسی پر نا خوش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد