نیو لیبر: بلیئر قیادت کے دس برس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر اسی ہفتے 1994 میں اپنی پارٹی کے قائد چنے گۓ تھے۔ ان کی قیادت کے دوران لیبر پارٹی کا حلیہ بدل کے رہ گیا ہے جو اب نئی لیبر پارٹی کہلاتی ہے۔ ایک کہنہ مشق لیبر لیڈر ٹونی بین کا قول ہے کہ ٹونی بلیئر نے لیبر پارٹی کو نہیں بدلا ہے بلکہ ایک بالکل نئی پارٹی بنائی ہے۔ پرانے لیڈروں میں عام خیال یہی ہے کہ ان کی پارٹی کو بلیئر، براؤن اور مینڈلسن نے اغوا کرلیا ہے۔ یعنی موجودہ وزیر خزانہ گورڈن براؤن اور حکومت سے فی الحال باہر پیٹر مینڈلسن نے۔ اگر موازنہ کیجئے تو کسی حد تک یہ بات ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔ 1994 میں کنسرویٹیو پارٹی کو حکومت کرتے ہوئے پندرہ سال ہو چکے تھے اور بظاہر یہ نظر آرہا تھا کہ لیبر پارٹی اگلے الیکشن میں بھی ووٹروں کے دل نہ جیت سکے گی۔ ٹونی بلیئر اور ان کے ساتھیوں کے سامنے دو راستے تھے ۔ یا تو پارٹی کو بائیں بازو کے نظریات پر بدستور چلایا جائے اور ایک اور ہار کا خدشہ مول لے لیا جائے ورنہ اسے ایک نئی یورپی سٹائل کی ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی بنا دیا جائے تاکہ ووٹروں کے دلوں سے یہ اندیشہ رفع ہوجائے کہ اگر اس کی حکومت بنی تہ یہ ایک بار پھر ملک کو سوشلزم کی طرف لے جانے کی کوشش کرے گی۔ اس بات کا خیال ٹونی بلیئر کی قیادت سے پہلے ہی آچکا تھا۔ ایک اور قائد نیل کنک نے انتہائی سخت موقف والے بائیں بازو کے عناصر سے پارٹی کی گلو خلاصی کرائی تھی اور پارٹی کے اندر پالیسی فیصلوں کے عمل کو نئے انداز میں ڈھالا تھا۔ نیل کنک کے بعد جون سمتھ قائد مقرر ہوئے جنہوں نے ٹریڈ یونیوں کی گرفت کو کمزور کیا۔ لیکن جون سمتھ 1994 میں وفات پاگئے اور پارٹی کی اصلاح کا کام ادھورا رہ گیا۔ اب ٹونی بلیئر اور پیٹر مینڈلسن کا زمانہ آتا ہے جنہوں نے انقلابی اقدامات کئے۔ لیبر پارٹی کے آئین میں دفعہ چار کے تحت پارٹی پر لازم تھا کہ تمام سرکاری اداروں کو مرکزی ملکیت میں رکھا جائے۔ یعنی لیبر پارٹی نج کاری کے خلاف تھی۔ اور عام ووٹروں کو اسی بنیادی اصول کے بارے میں اندیشے تھے۔ ٹونی بلیئر نے اس شق کو آئین سے خارج کرادیا۔ دوسری بات پارٹی کانفرنس تھی۔ جسے اعلیٰ ترین ادارے کی حیثیت حاصل تھی اور پالیسی کے بارے میں سارے فیصلوں کی توثیق اس سے کرانی پڑتی۔
کانفرنس میں ووٹنگ کا طریقہ یہ تھا کہ بڑی بڑی یونینوں کے بلاک ووٹ مقرر تھے۔ اور ایک یا دو مزدور انجمنیں مل کر بڑے بڑے فیصلے بدلوا سکتی تھیں۔ یہ نظام ختم کرادیا گیا۔ پارٹی ماضی میں یہ فیصلہ کرچکی تھی کہ برطانیہ یک طرفہ طور پر جوہری اسلحہ ترک کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہ فیصلہ منسوخ کرایا گیا۔ پارٹی عوامی فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھی۔ ان اخراجات کے لۓ ٹیکسوں میں اضافے ضروری تھے۔ عوام کسی بھی ملک کے ہوں اونچے ٹیکس ادا کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور لیبر پارٹی کا ٹیکس بڑھانے کا رجحان اس کی انتخابی جیت کی راہ میں حائل تھا۔ نئ لیبر نے اخراجات پر روک کا وعدہ کیا۔ ٹونی بلئیر، پیٹر منڈلسن اور گورڈن براؤن پر الزام ہے کہ ان تبدیلیوں کے لئے انہوں نے پرانے قائدین کو تو نظر انداز کیا ہی تھا لیکن دوسری جانب انہوں نے کنسرویٹیو پارٹی کی سابق رہنما مارگریٹ تھیچر اور پارٹی سے الگ ہونے والے ایک بزرگ رہنما روائے جینکنس سے مشورے کئے تھے۔ اسی لئے نئی لیبر پارٹی کو نئی کنسرویٹیو پارٹی کہا جانے لگا تھا۔ غرض کہ نئی لیبر پارٹی نے ان عناصر کو ناراض کیا جو برسوں سے اس کے لئے اینٹ اور گارے کا کام دیتے تھے تاکہ ان عناصر کو خوش کیا جاسکے جن کے ووٹ سے پارٹی بر سر اقتدار آئے گی۔اور ووٹروں کو یہ نئی جِھلمل کرتی ہوئی پارٹی بھاگئی۔ اور انیس سو ستانوے میں ٹونی بلیئر وزیراعظم بن گئے۔ اب دس سال کے بعد بہت سے ہونٹوں پر یہ سوال ہے کہ آیا نئی لیبر پارٹی کیا نئے حالات کو جھیل سکے گی یا دوبارہ پرانی پارٹی واپس آجائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||