بلیئر سے استعفیٰ کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ان کی جماعت، لیبر پارٹی کے کئی اراکان نے وزارت عظمی کے عہدے سے ہٹ جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیبر پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ٹونی بلیئر لیبر پارٹی کے لیے ایک اثاثہ کی بجائے ایک بوجھ بن چکے ہیں ۔ وزیر اعظم ہاؤس ( ٹین ڈاؤننگ) کے ترجمان نے کہا ہے کہ ٹونی بلئیر کا مستعفی ہونے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ لیبر پارٹی کے جو ممبران پارلیمینٹ ٹونی بلئیر کو وزرات عظمی کا عہدہ چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں وہ برطانوی وزیر خزانہ گارڈن برؤان کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیبر پارٹی نے لگا تار تیسر ی دفعہ انتخابات میں جیت کر لیبر پارٹی کی تاریخ تو رقم کی ہے لیکن پارلیمنٹ میں اس کی اکثریت 161 ممبران سے گھٹ کر 67 ممبران تک محدود ہو گئی ہے۔ ایم پی ڈابسن نے، جو ٹونی بلئیرکی پہلی حکومت میں وزیر صحت کے عہدے پر فائز رہے ہیں، اتوار کو جی ایم ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ٹونی بلئیر سے مطالبہ کیا کہ وہ وزارت عظمیٰ سے دیر کی بجائے جلدی استعفی دے دیں۔ ڈابسن نے کہا کہ لیبر پارٹی اگلے بلدیاتی انتخابات میں ٹونی بلئیر کی قیادت میں انتخاب نہیں لڑنا چاہے گی۔ ایرتھ اور تھیمزمیڈ سے لیبر پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ جان آسٹن نے کہا ان انتخابات میں ٹونی بلئیر لیبر پارٹی کے لیے ایک بوجھ تھے جس کا اندازہ لیبر پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران بار بار ہوا۔ ایک اور ایم پی کوربن نے کہا کہ دو ہزار پانچ کے اختتام تک جی ایٹ کی صدارت کے خاتمے پر ٹونی بلئیر کو اپنے عہدے سے ہٹ جانا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||