تاریخ بلیئر کو کیسے یاد رکھے گی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس بات کا فیصلہ تو تاریخ ہی کرے گی کہ بحثیت وزیر اعظم ٹونی بلیئر کیسے تھے۔ تاہم یہاں تین ماہرین کے اُن کے بارے میں تاثرات دیے جارہے ہیں۔ شیفلڈ یونیورسٹی میں پروفیسر آئن کرشا کا بلیئر کے بارے میں کہنا تھا کہ ’دس سالہ صدارتی طرز حکومت نے ہاؤس آف کامن کی اتھارٹی کو نقصان پہنچایا‘۔ ’بے شک، بلیئر نے لیبر پارٹی کو کافی حد تک بدلا اور اُن کی صدارت میں پارٹی نے عام انتخاب میں مسلسل تین بار کامیابی حاصل کی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ٹونی بلیئر کا دور حکومت میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران مسلسل ترقی ہوئی جس کے حالیہ دور میں کوئی مقابلہ نہیں۔ اُن کے دور حکومت میں معاشی ترقی کے ماہر گورڈن براؤن کا بھی کافی ہاتھ ہے لیکن پھر بھی ٹونی بلیئر کی دور حکومت میں ہونے والی ترقی قابل ستائش ہے۔ تاہم سپن ڈاکٹرز کے استعمال اور غیر منتخب مشیروں کی تقرری نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔” کم از کم اجرت کی حد، رہن سہن کا بہتر طریقہ انداز کو اپنانا، بلیئر حکومت کے صحیح سمت میں اُٹھائے جانے والے اقدامات تھے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر، نرسیں، اُستاد اور پولیس والے بھی بیورکریسی کے ظالم طرز حکومت سے نالاں تھے‘۔ تاریخ دان اور بائیو گرافر اینڈریو رابرٹ کا ٹونی بلیئر کے بارے میں کہنا ہے:۔ ’القاعدہ اور طالبان کی افغانستان کے بہت سے اہم حصوں میں تباہی ٹونی بلیئر کی حکومت کی اور اہم کامیابی تھی۔ ٹونی بلیئر نے پہلے بھی کئی جنگیں لڑیں، اُنہوں نے کوسوو اور سیرا لیون میں برطانوی فوجیں بھیجیں جو انتہائی کامیاب رہیں اور دوران جنگ برطانوی فوجیوں کی بہت ہی کم اموات ہوئیں۔ نائن الیون کے بعد افغانستان اور عراق میں جنگ یقیناً ایک مختلف لڑائی تھی جو ناصرف مشکل تھی بلکہ بڑے پیمانے پر بھی تھی، اس باوجود برطانوی فوجیوں کی اموات حیرت انگریز طور پر کم تھیں۔ بلیئر نے اپنے آپ کو یقیناً ایک مثالی جنگی لیڈر کے طور پر منوایا‘۔ ٹونی بلیئر کی سوانح حیات کے منصف انتھونی سلڈن کا بلیئر کے بارے میں کہنا تھا:۔ ’ٹونی بلیئر کو انتخابات میں کامیابی ہی کی وجہ لیبر پارٹی میں ایک مقبول لیڈر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ جان سمتھ کے بعد اُنیس سو چورانوے میں لیبر پارٹی کا صدر بننے کے بعد اُنہوں نے تین سال صرف اس بات صرف کیے کہ معیشت، دفاع اور تجارت کی پالیسوں کو کیسے لیبر پارٹی کے مطابق ڈھالا جائے۔ جس طرح بلیئر بغیر کسی سکینڈل کے رخصت ہو رہے ہیں، اُنہیں تاریخ میں اچھے طریقے سے یاد رکھا جائے گا‘۔ |
اسی بارے میں بلیئر نے میڈیا کو کیسے چکر دیا10 May, 2007 | آس پاس ٹونی بلیئر 27 جون کو استعفیٰ دینگے10 May, 2007 | آس پاس امریکہ کی جیت یا تنہائی ؟22 February, 2007 | آس پاس جوہری نظام پر بلیئر کی سفارشات04 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||