میڈیا،یونینز پر عائد پابندی کا خاتمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ برس تین نومبر کو صدر پرویز مشرف کی جانب سے میڈیا پر عائد پابندیوں کے بارے میں نافذ قوانین ختم کرنے اور برطرف ججوں کی بحالی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے سنیچر کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنی حکومت کی ترجیحات کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں وزیراعظم کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر اعتماد کا ووٹ دے دیا اور اس اعتبار سے یوسف رضا گیلانی پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے بھی اعتماد کا ووٹ دیا ہے۔ پاکستان کے نئے وزیراعظم نے اپنی حکومت کے پہلے سو دن کے پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے جہاں ملک میں طلباء اور ٹریڈ یونینز پر پر عائد پابندی ختم کرنے، قومی احتساب بیورو کو انتظامیہ کے بجائے عدلیہ کے ماتحت کرنے، صدر پرویز مشرف کی جانب سے گزشتہ برس تین نومبر کو برطرف کردہ ججوں کی بحالی سمیت متعدد اعلانات کیے وہاں دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن و امان قائم کرنے کو اپنی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں نا خواندگی اور پسماندگی کی وجہ سے شدت پسندی کو فروغ ملا ہے اس لیے وہاں غربت کے خاتمے اور تعلیم عام کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ نئے وزیراعظم نے شدت پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آئیے تشدد کا راستہ چھوڑ کر آج نئے جمہوری سفر میں شامل ہوں، جو بھی ہتھیار پھینک کر امن کا راستہ اختیار کرے گا حکومت ان سے تعاون کرے گی اور بات چیت کرے گی۔‘
پاکستان کے نئے وزیراعظم نے فوج یا عدلیہ کا نام لیے بنا کہا کہ ’تمام ادارے اپنا اپنا کام کریں اور ملک پر حکمرانی کرنے کا اختیار صرف عوام کا ہے۔‘ اس موقع پر انہوں نے اپنی جماعت کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان دونوں افراد نے جمہوریت کے لیے اپنی جانیں قربان کردی ہیں۔ انہوں نے دو ہفتوں کے اندر سویلین اداروں سے فوجی افسران کو واپس بلانے، میڈیا پر قدغن لگانے والے قوانین پر نظر ثانی اور قبائلی علاقوں میں ڈیڑھ صدی سے زیادہ پرانے اور فرسودہ قوانین ’ایف سی آر‘ ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے حکومت کی طرف سے بچت مہم کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ وہ اس مہم پر عمل درآمد سب سے پہلے وزیر اعظم ہاؤس سے کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے بجٹ میں چالیس فیصد کٹوتی کا اعلان کیا۔ انہوں نے غیرضروری چراغاں سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان الیکٹرک کمپنی کو حکم دیا کہ وہ ایک کروڑ کم بجلی استعمال کرنے والے ’انرجی سیورز‘ بلب عوام کے لیے مناسب قیمت پر دستیاب کریں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک میں تین ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی ہے جو آئندہ برس بڑھ کر چار ہزار میگا واٹ ہوجائے گی۔ نئے وزیراعظم نے اپنی حکومت کے پہلے برس میں بائیس سو میگا واٹ نئی بجلی پیدا کرنے، پانچ سو میگا واٹ بچت سکیم سے حاصل کرنے، ملک میں چھوٹے بڑے ڈیم بنانے، کیٹی بندر پر کوئلے سے چلنے والا بجلی گھر بنانے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے تین برس سے بھی کم عرصہ میں تین ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا انتظام کیا تھا۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں بینظیر بھٹو نے کیٹی بندر منصوبہ شروع کیا تھا اور چین کی ایک کمپنی سے معاہدہ بھی کیا تھا جو میاں نواز شریف نے اقتدار میں آکر چینی کمپنی کو کئی ملین ڈالر ہرجانہ ادا کر کے ختم کردیا تھا۔ انہوں نے ملک بھر میں تمام گریجوئیٹس کے لیے سند ملنے کے بعد دو برس تک روزگار فراہم کرنے کا نیا منصوبہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق ہر غریب خاندان کو ایک ملازمت فراہم کرنے، ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کو مکان دینے، قدرتی آفات کی وجہ سے معذور ہونے والے سرکاری ملازمین کو مکمل فوائد دینے، دیہی علاقوں میں سرکاری زمین پر پانچ مرلے کے مکان، شہروں میں اسی گز کے پلاٹ پر مکان بنانے کا منصوبہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ حکومت ہر سال دس لاکھ مکان بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کچی آبادیوں کو ریگولرائیز کیا جائے گا۔
نئے وزیراعظم نے ملک سے ’وی آئی پی‘ کلچر کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی اڈوں سے وی آئی پی کاؤنٹر ختم کیے جائیں گے، کوئی وزیر سرکاری خرچ پر اکنامی پلس سے اوپری درجہ میں سفر نہیں کرے گا اور سولہ سو سی سی سے زیادہ والی گاڑی استعمال نہیں کرسکے گا۔ انہوں نے پارلیمان کی تمام کمیٹیوں کی کارروائی کھلی کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اب ذرائع ابلاغ کے نمائندے ان اجلاسوں میں بیٹھ سکیں گے۔ صنعتوں اور مزدوروں کے متعلق وزیراعظم نے صدر پرویز مشرف کے نافذ کردہ قانون ’آئی آر او‘ کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ ایک مزدور دشمن قانون ہے۔ انہوں نے برطرف اور چھانٹی کردہ ملازمین کی بحالی پر نظرثانی کرنے اور کم سے کم ماہانہ اجرت چھ ہزار کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام پر مظالم ڈھانے (صدر پرویز مشرف کی جانب سے فوجی آپریشن کرنے) پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی قیدیوں کو باعزت بری کیا جائے گا اور بلوچوں پر ہونے والے مظالم کا ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے سچائی اور مصالحت کمیشن بنانے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ یہ کمیشن ریاستی جبر کا نشانہ بننے والوں کے زخموں پر مرہم رکھے گا۔ انہوں نے صوبائی خودمختاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی حکومت کے پہلے سال میں وہ آئین میں دی ہوئی ’کنرکنٹ لسٹ‘ ختم کردیں گے۔ یوسف رضا گیلانی نے جمہوریت کے لیے قربانی دینے والوں کو خراج پیش کیا اور کہا کہ ان کے اہل خانہ کو مالی معاوضہ، وظائف اور ملازمتیں دی جائیں گی۔ انہوں نے میثاق جمہوریت اور مری اعلامیہ پر کلی طور پر عمل کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ان کی پالسیی جیو اور جینے دو کے اصول پر مبنی ہوگی۔ انہوں نے امریکہ اور یورپ سمیت دنیا بھر سے برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم رکھنے، افغانستان اور بھارت کے ساتھ پرامن رہنے اور بہتر تعلقات کے قیام کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ اعتماد کے ووٹ کی قرارداد حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ قائد اعظم، پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ)، مسلم لیگ (فنگشنل) اور متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس قرار داد کی حمایت کی۔ اعتماد کے ووٹ کی تحریک پر سید نوید قمر، اسفند یار ولی، خواجہ آصف، مولانا قاسم اور ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر کے دستخط تھے۔ سنیچر کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں منعقد ہوا۔ سکیورٹی کے لیے نئی وزیراعظم سیکرٹریٹ سے پی ٹی وی کے دفتر شاہراہ دستور عام ٹریفک کے لیے بند تھا اور پولیس نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے خار دار تاریں بچھا رکھیں تھیں۔ واضح رہے کہ وزیرعظم اعتماد کے ووٹ کے بعد لاہور روانہ ہوجائیں گے جہاں ان کے صاحبزادے کا ولیمہ ہے۔ |
اسی بارے میں سٹوڈنٹ، ٹریڈ یونینز پر پابندی کا خاتمہ29 March, 2008 | پاکستان 72 فوجی سول محکموں سے واپس28 March, 2008 | پاکستان سرحد اسمبلی کا افتتاحی اجلاس28 March, 2008 | پاکستان ’نصف ارکان کی پہلی اسمبلی‘28 March, 2008 | پاکستان سندھ کے سیاسی منظر نامے سے مسلم لیگ (ق) غائب27 March, 2008 | پاکستان ’پاکستان کا دوسرا نہیں پہلا جنم‘28 March, 2008 | پاکستان ’القاعدہ سے بات چیت نہیں‘28 March, 2008 | پاکستان حسین حقانی اور رحمان ملک کا تقرر28 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||