’اصل چیلنج اعلان پر عملدرآمد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم یوسف رصا گیلانی کی جانب سے حکومت کے پہلے سو دن کے لیے جاری کردہ پروگرام پر قومی اسمبلی میں بحث کرتے ہوئے ایوان کے دونوں جانب کے ارکان نے ان اعلانات کی تعریف کی تاہم حزب اختلاف کے بعض ارکان نے ان اقدامات پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم کے اعلان کردہ اس پروگرام پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ارکان نےٹریڈ اور طلبا یونینز پر پابندی ہٹانے، قبائلی علاقوں سے امتیازی قوانین کے خاتمے، احتساب کے ادارے کو انتظامیہ کے بجائے عدلیہ کے تابع کرنے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے سمیت معاشی اقدامات کو خاص طور پر توجہ کا مرکز بنایا۔ اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی قائد فیصل صالح حیات نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے جو اعلانات کیے وہ بلاشبہ درست سمت میں ہیں لیکن اصل چیلنج ان پر عمل کر کے دکھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا عوام کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر حکومت کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ نومنتخب حکومت سے عوام نے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی ہیں جن پر پورا اترنا حکومت کے لیے چیلنج ہو گا۔ فیصل صالح حیات نے یہ بھی کہا کہ جس طرح سے سابق حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ حقائق کے برعکس ہے۔
حکومتی اتحاد میں شامل جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم نے پروگرام کا اعلان تو کر دیا لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ جن اقدامات کا انہوں نے اعلان کیا ہے کیا وہ حتمی احکامات ہیں یا پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردہ تجاویز ہیں جن پر بحث کے بعد پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نکتہ اس لیے اٹھا رہے ہیں کیونکہ وزیراعظم نے خود کہا ہے کہ تمام اہم فیصلے پارلیمنٹ میں کیے جائیں گے۔ فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بعض اعلانات بغیر ہوم ورک کے کئے ہیں مثلاً قبائلی علاقوں کے لئے مخصوص قانون ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان مبہم ہے اور اس کے متبادل نظام کے بارے میں کوئی اعلان تقریر میں شامل نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم کی حیثیت سے یوسف رضا گیلانی کے حق میں ووٹ دینے والی حزب اختلاف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ بیشک حکومت نے ایک اچھے پیکج کا اعلان کیا ہے لیکن بعض اہم نکات کو بھی اس پیکج کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
فاروق ستار نے بے زمین کسانوں اور ہاریوں میں زمینوں کی تقسیم، غرب طبقے کے لیے گھروں کی فراہمی، ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات اور خارجہ پالیسی کے لیے بھی بعض تجاویز پیش کیں۔ حکومت میں شامل پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے کہا کہ آمریت کے نو سالہ دور حکومت میں ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر دیوالیہ کر دیا گیا اور قوم کو ان اندھیروں سے نکالنے میں یہ پروگرام اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے خاص طور پر بجلی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا گزشتہ سالوں میں ملک میں بجلی پیدا کرنے کا کوئی نیا پلانٹ نہیں لگا نتیجہ یہ ہے کہ ملکی معیشت اس بحران کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہے۔ | اسی بارے میں وزیراعظم آج اعتماد کا ووٹ لیں گے28 March, 2008 | پاکستان حسین حقانی اور رحمان ملک کا تقرر28 March, 2008 | پاکستان سٹوڈنٹ، ٹریڈ یونینز پر پابندی کا خاتمہ29 March, 2008 | پاکستان میڈیا اور یونینز پر پابندی کا خاتمہ29 March, 2008 | پاکستان ’پالیسی پارلیمنٹ بنائے گی‘26 March, 2008 | پاکستان اعتماد کاووٹ ہفتےکو لیں گے26 March, 2008 | پاکستان معاشی ترقی اور سیاسی خطرات25 March, 2008 | پاکستان ’ججز 30 دن میں بحال ہو جائیں گے‘25 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||