سٹوڈنٹ، ٹریڈ یونینز پر پابندی کا خاتمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلے سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد حکمران اتحاد کے پہلے سو دن کے پروگرام کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھر پور اعتماد کا ووٹ دیا۔ قومی اسمبلی میں اپنے پالیسی بیان نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے طلباء اور ٹریڈ یونینز پر عائد پابندی ختم کرنے کے علاوہ قومی احتساب بیورو کو انتظامیہ کے بجائے عدلیہ کے تحت کرنے کا بھی اعلان کیا۔ نو منتخب وزیر اعظم نے سول اداروں میں کام کرنے والے فوجی افسروں کی دو ہفتوں کے اندر اندر فوج میں واپسی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے بچت مہم کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ وہ اس مہم کا اطلاق سب سے پہلے وزیر اعظم ہاؤس پر ہوگا اور اس کے بجٹ میں چالیس فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ اعتماد کے ووٹ کی قرارداد حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ قائد اعظم، پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ)، مسلم لیگ (فنگشنل) اور متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس قرار داد کی حمایت کی۔ سنیچر کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں منعقد ہوا۔
اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد نو منتخب وزیر اعظم اپنی حکومت کے پہلے سو روز کے پروگرام کا اعلان کر رہے ہیں۔ سکیورٹی کے لیے نئی وزیراعظم سیکرٹریٹ سے پی ٹی وی کے دفتر شاہراہ دستور عام ٹریفک کے لیے بند ہے اور پولیس نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے خار دار تاریں بچھا رکھیں ہیں۔ اعتماد کے ووٹ کی تحریک سید نوید قمر، اسفند یار ولی، خواجہ آصف، مولانا قاسم اور ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر کے دستخط سے پیش کی گئی تھی۔ ماضی میں جب بھی وزیراعظم بنتا رہا تو ایسی مثالیں موجود ہیں کہ قواعد معطل کرکے اُسی روز وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرتا رہا ہے۔ لیکن اس بار پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر کا کہنا ہے کہ وہ قواعد معطل کرکے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی غلط روایت کو روکنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیرعظم اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد لاہور روانہ ہوجائیں گے جہاں ان کے صاحبزادے کا ولیمہ ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق سنیچر ہی کو کابینہ نے صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں حلف اٹھانا ہے۔ لیکن صدر پرویز مشرف لاہور میں ہیں۔ صدر کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کا دعویٰ ہے کہ کل شام گئے تک ایوان صدر کو کابینہ کی حلف برداری کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ ایسے عناصر ہیں جو ایوان صدر اور نو منتخب حکومت کے درمیاں میں جان بوجھ کر غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||