BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 March, 2008, 02:16 GMT 07:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسین حقانی اور رحمان ملک کا تقرر

رحمٰن ملک
رحمٰن ملک کے اختیارات وفاقی وزیر کے مساوی ہوں گے
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے سیکیورٹی ایڈوائزر اور ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رحمٰن ملک کو وزیراعظم کا مشیر برائے داخلہ و انسداد منشیات جب کہ سری لنکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور صحافی حسین حقانی کو پاکستان کا گشتی سفیر مقرر کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق حسین حقانی اس کے علاوہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے سینئر مشیر برائے سیکیورٹی و امور خارجہ کے فرائض بھی انجام دیں گے۔

رحمان ملک کے اختیارات وفاقی وزیر کے مساوی ہوں گے۔

دوسری طرف وفاقی کابینہ کی تشکیل کے سلسلے میں حکمران اتحاد میں شامل دونوں جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے نمائندوں کے مابین زرداری ہاؤس میں جمعرات کو بھی مذاکرات جاری رہے۔ تاہم دونوں جماعتوں کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے بتایا تھا کہ ابتدائی طور پر کابینہ بیس رکنی ہوگی۔ تاہم جمعرات کو مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شیری رحمن نے کہا کہ ’ابتدائی طور پر کابینہ کے لیے بائیس ارکان کی بات کی جا رہی ہے کیونکہ اے این پی اور جے یو آئی کو بھی شامل کرنا ہے اور شاید فاٹا سے بھی رکن لیا جائے‘۔

حسین حقانی
اے پی پی کے مطابق حسین حقانی سفیر کے علاوہ وزیراعظم سینئر مشیر برائے سیکیورٹی و امور خارجہ کے فرائض بھی انجام دیں گے

جب ان سے پوچھا گیا کہ کابینہ کے ارکان کے انتخاب پر اتفاق رائے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’دو تین پوائنٹس ہیں جن پر بات ابھی ہو رہی ہے۔ انہوں نے (مسلم لیگ نواز) اپنی لیڈرشپ سے بات کرنی ہے، ہم نے بھی‘۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ ’اتحادی جماعتوں کے کافی مطالبے ہیں اور پریشر ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کابینہ جتنا ممکن ہو، مختصر ہو‘۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ کابینہ کا اب تک حلف نہ اٹھانا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں قواعد کو معطل کر کے وزیراعظم کو منتخب ہونے کے فوری بعد اعتماد کا ووٹ دے دیا جاتا تھا جب کہ قواعد کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کے تین دن بعد انہیں قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس بار پیپلز پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ جمہوریت کا ایک نیا آغاز ہو رہا ہے اور اچھی حکمرانی کی بات ہو رہی ہے تو قواعد کو معطل نہ کیا جائے اور وزیراعظم انتخاب کے تین دن بعد اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں۔ اسی لیے انتیس مارچ کو وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے اور اس کے بعد کابینہ کا اعلان کیا جائے گا۔

قاف لیگ کا انتخابی نشان: سائکلقاف لیگ کہاں ہے؟
سندھ کے سیاسی منظرنامے سے قاف غائب
جہانگیر ترین فے قاف کے رستے
فے نے بھی قاف کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا
سرحداسمبلی بدلتے سیاسی رنگ
کل کا قائد ایوان آج کا قائدحزب اختلاف
خاموشی بہتر ہے
مخدوم خلیق کا مخدوم امین کو مشورہ
بلوچستان اسمبلییک رکنی اپوزیشن
بلوچستان اسمبلی نے کیا کیا، کیا کر پائے گی؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد