حسین حقانی اور رحمان ملک کا تقرر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے سیکیورٹی ایڈوائزر اور ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رحمٰن ملک کو وزیراعظم کا مشیر برائے داخلہ و انسداد منشیات جب کہ سری لنکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور صحافی حسین حقانی کو پاکستان کا گشتی سفیر مقرر کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق حسین حقانی اس کے علاوہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے سینئر مشیر برائے سیکیورٹی و امور خارجہ کے فرائض بھی انجام دیں گے۔ رحمان ملک کے اختیارات وفاقی وزیر کے مساوی ہوں گے۔ دوسری طرف وفاقی کابینہ کی تشکیل کے سلسلے میں حکمران اتحاد میں شامل دونوں جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے نمائندوں کے مابین زرداری ہاؤس میں جمعرات کو بھی مذاکرات جاری رہے۔ تاہم دونوں جماعتوں کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے بتایا تھا کہ ابتدائی طور پر کابینہ بیس رکنی ہوگی۔ تاہم جمعرات کو مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شیری رحمن نے کہا کہ ’ابتدائی طور پر کابینہ کے لیے بائیس ارکان کی بات کی جا رہی ہے کیونکہ اے این پی اور جے یو آئی کو بھی شامل کرنا ہے اور شاید فاٹا سے بھی رکن لیا جائے‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کابینہ کے ارکان کے انتخاب پر اتفاق رائے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’دو تین پوائنٹس ہیں جن پر بات ابھی ہو رہی ہے۔ انہوں نے (مسلم لیگ نواز) اپنی لیڈرشپ سے بات کرنی ہے، ہم نے بھی‘۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ ’اتحادی جماعتوں کے کافی مطالبے ہیں اور پریشر ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کابینہ جتنا ممکن ہو، مختصر ہو‘۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ کابینہ کا اب تک حلف نہ اٹھانا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں قواعد کو معطل کر کے وزیراعظم کو منتخب ہونے کے فوری بعد اعتماد کا ووٹ دے دیا جاتا تھا جب کہ قواعد کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کے تین دن بعد انہیں قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار پیپلز پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ جمہوریت کا ایک نیا آغاز ہو رہا ہے اور اچھی حکمرانی کی بات ہو رہی ہے تو قواعد کو معطل نہ کیا جائے اور وزیراعظم انتخاب کے تین دن بعد اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں۔ اسی لیے انتیس مارچ کو وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے اور اس کے بعد کابینہ کا اعلان کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں بینظیر قتل انکوائری پر بات27 March, 2008 | پاکستان وزارتوں کا اعلان سنیچر کو؟26 March, 2008 | پاکستان پانچ وفاقی وزارتوں پر اتفاق25 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||