بلوچستان اسمبلی اجلاس سات اپریل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کی نویں صوبائی اسمبلی کا اجلاس سات اپریل کو باقاعدہ طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔ نومنتخب بلوچستان اسمبلی کیا قانون سازی کر پائے گی اس بارے میں نومنتخب اراکین تو بہت کچھ کر دکھانے کا عزم رکھتے ہیں لیکن سابقہ اسمبلی کے اراکین کا کہنا ہے کہ اسمبلی اور حکومتی پالیسوں میں تضاد کی وجہ سے اسمبلی کی قرار دادوں اور سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے اراکین میں آدھے سے زیادہ ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کا حلف اٹھائیں گے ان میں نوجوان اور بعض تجربہ کار سیاستدان شامل ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے سیکرٹری محمد خان مینگل کے مطابق یہ بلوچستان کی نویں اسمبلی ہے اور پہلی اسمبلی کا اجلاس انیس سو بہتر میں ہوا تھا جس میں اراکین کی کل تعداد بائیس تھی۔ جس کے بعد ارکان کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہی۔ اس وقت بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی کل تعداد پینسٹھ ہے لیکن ان میں سے ایک رکن کی وفات ہو چکی ہے اور ایک گورنر بن چکے ہیں۔ قانون سازی اور بلوچستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے کیا ارکان کے عزائم کے بارے میں جب میں نے بلوچستان نینشل پارٹی عوامی کے پارلیمانی لیڈر اسد بلوچ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ بلوچستان کے مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ سابق حکومت میں حلیف جماعت ہونے کے باوجود اسد بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی صرف دو فیصد نمائندگی ہونے کے باوجود ان کے اراکین نے فوجی آپریشن کی مخالفت کی لیکن یہ پالیسی وفاقی حکومت اور خاص طور پر قاف لیگ کی تھی۔
ایک نوجوان رکن میر ظہور احمد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے طور پر تو بہتری کے لیے کوشش ضرور کریں گے۔ سابق اسمبلی کے ایک متحرک رکن جان محمد بلیدی کے مطابق اسمبلی کی کارروائی اور حکومت کی پالیسیوں میں ہمیشہ تضاد رہا ہے جس وجہ سے اسمبلی کی قراردادوں پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے ہر مسئلے پر آواز اٹھائی وہ چاہے فوجی آپریشن ہو گوادر میگا پراجیکٹ کو روکنے کا مسئلہ ہو، نواب اکبر بگٹی کے مکان پر حملہ ہو یا بالاچ مری کی ہلاکت۔ لیکن صوبائی حکومت کی کابینہ فیصلے خود بیٹھ کر کرتی تھی اسمبلی کی سفارشات کو خاطر میں نہیں لایا جاتا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے وہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں فوجی کارروائیاں روکی جائیں، گرفتار سیاسی قائدین اور کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ ڈیرہ بگٹی کوہلو اور دیگر علاقوں کے بے گھر افراد کو اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد کیا جائے۔ بلوچستان کو گیس کی رائلٹی اور قومی مالیاتی کمیشن میں رقبے کے اعتبار سے حصہ دیا جائے اور بلوچستان میں ہونے والی ترقی بلوچستان کے لوگوں کے لیے ہونی چاہیے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اسمبلی میں اپوزیشن یک رکنی ہو گی ایسی صورت میں یہ اسمبلی کیا کارکردگی دکھاتی ہے یہ وقت بتائے گا۔ |
اسی بارے میں پیپلز پارٹی کی معافی طلبی پر ردِ عمل 24 February, 2008 | پاکستان معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست25 February, 2008 | پاکستان بلوچستان: حکومت سازی کے مذاکرات01 March, 2008 | پاکستان بلوچستان: حکومت سازی کے مذاکرات24 February, 2008 | پاکستان بلوچستان :پی پی کو مزید حمایت05 March, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||