بلوچستان میں ایک ممبر کی اپوزیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجہ میں مرکز اور چاروں صوبوں میں حکومت سازی کا عمل تقریباً اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے لیکن اس سلسلہ میں سب سے زیادہ دلچسپ صورتحال بلوچستان میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان میں کسی ایک جماعت کی بجائے صرف ایک شخص ہی اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھائیں گے۔ اور وہ شخص ہیں سردار یار محمد رند، غالب امکان ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد امیدوار نواب اسلم رئیسانی سے قبائلی دشمنی کی وجہ سے ایوان میں’ واحد غائب‘ اپوزیشن لیڈر بن جائیں۔ بلوچستان کے رند اور رئیسانی قبائل کے درمیان گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زائد عرصہ سے قبائلی دشمنی چلی آرہی ہے جس میں نواب اسلم رئیسانی کے والد اور ایک بھائی جبکہ نواب یار محمد رند کے بھائی کے علاوہ دونوں قبائل کے کئی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ انتخابات کے بعد مسلم لیگ کو بیس کے قریب نشستیں حاصل ہونے کے بعد سردار یار محمد رند جبکہ دس نشستیں حاصل کرنے والی پیپلز پارٹی کے نواب اسلم رئیسانی نے وزیراعلی بننے کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں کیونکہ دونوں یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ’جمہوریت کی بقاء‘ کا نہیں بلکہ ان کی’قبائلی بقاء‘ کا مسئلہ بن گیا ہے جس میں بالاخر نواب اسلم رئیسانی کو کامیابی حاصل ہوگئی۔ ایک اور دلچسپ امر یہ ہے کہ انتخابات میں بیس نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ابھر کر سامنے آنے والی مسلم لیگ (ق) کی بجائے دس نشستیں حاصل کرنے والی پیپلز پارٹی نے تریسٹھ کے ایوان میں اپنے حمایتی اراکین کی تعداد اکسٹھ تک پہنچادی ہے۔ اس سے یہ اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں ہر سیاسی جماعت کو مچھلی کی طرح وزراتوں کے تالاب سے باہر زندہ رہنے کی امید نہیں ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ اسلام آباد کےافق پر پیپلز پارٹی کے اقتدار کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ بلوچستان میں مسلم( ق ) کے اراکین نے مختلف گروپوں کی صورت میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا حالانکہ چودھری شجاعت حسین اور مشاہد حسین نے خصوصی طور پر کوئٹہ جاکر اپنے اراکین کو یکجا رکھنے اور صوبائی حکومت بنانےکی حتٰی المقدور کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ جنرل پرویز مشرف کی آٹھ سالہ دور حکومت کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت چاہے ان کے پاس چند ہی ارکان ہی کیوں نہ ہو اپوزیشن کے بنچز پر بیٹھنے کو تیار نہیں ہے اور یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ الطاف حسین اور مولانا فضل الرحمٰن کی طرح ایک دن مسلم لیگ(ق) بھی ’عظیم تر قومی مفاد، کی سدا بہار اصطلاح کے تحت حکومت میں شامل ہوجائے۔ | اسی بارے میں بلوچستان:ق لیگ پی پی پی کی حامی21 March, 2008 | پاکستان معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست25 February, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کی معافی طلبی پر ردِ عمل 24 February, 2008 | پاکستان مل کر حکومت بنائیں گے21 February, 2008 | پاکستان چاروں صوبوں میں مختلف جماعتیں18 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||