بلوچستان: 50 فیصد ووٹنگ کا اندازہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے چودہ اضلاع کی دو سو انتیس یونین کونسل میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح ایک اندازے کے مطابق پچاس فیصد تک رہی ہے۔ جعفر آباد اور نصیر آباد میں دو علیحدہ علیحدہ واقعات میں باییس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جعفر آباد میں ڈیرہ اللہ یار تحصیل کی یونین کونسل نمبر تین میں دو گروہوں کے مابین جھڑپ میں کم سے کم انیس افراد زخمی ہو ئے ہیں۔ نصیر آباد کی یونین کونسل بیدار میں جھڑپ میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ خضدار میں ایک ماڈل سکول کے قریب زور دار دھماکہ ہوا ہے۔ ڈی ایس پی بہرام شاہوانی نے کہا ہے کہ اس دھماکے سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ جس مقام پر دھماکہ ہوا ہے وہاں ایک گڑھا پڑ گیا ہے۔ بلوچستان کے چودہ اضلاع میں کہیں سے ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ خواتین کو انتخابات سے دور رکھا گیا ہو۔ نوشکی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق خواتین ان انتخابات میں کافی سرگر رہی ہیں اور یہاں تک کہ خواتین امیدواروں نے پولنگ سٹیشن کے باہر اپنے کیمپ لگا رکھے تھے۔ ووٹ ڈالنے کا تناسب صبح کے وقت کوئی اچھا نہیں تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امیدواروں نے کوششیں کرکے ووّرز کو پولنگ سٹیشن تک لے آئے۔ بعض علاقوں میں امیدوار ووٹرز کی منت سماجت کرتے رہے کہ وہ ووٹ ڈالنے ضرور آئیں۔ جن چودہ اضلاع میں ج ووٹ ہوئے ہیں وہاں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح لگ بھگ پچاس فیصد رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نائب صدر میر باز کھیتران نے الزام لگایا ہے کہ بارکھان کے علاقے میں مقامی انتظامیہ حکمران پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کر رہی ہے اور ووٹرز لسٹوں میں ایسی ہیرا پھیری کی گئی ہے کہ ان کے ووٹرز سارا دن پولنگ سٹیشن ڈھونڈنے میں سرگرداں رہے ہیں۔ صوبائی الیکشن کمشنر قمر زمان نے کہا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے الیکشن کمشن نے تمام امیدواروں کی رائے لینے کے بعد پولنگ سٹیشن قائم کیے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||