’سائیں اب خاموشی بہتر ہے‘ مخدوم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی صوبہ سندھ کے سابق صدر اور سرگرم سیاست سے کنارہ کش رہنماء مخدوم خلیق الزماں نے اپنے بڑے بھائی مخدوم امین فہیم کو مشورہ دیا ہے کہ شعر و شاعری، بیان بازی اور نوحہ خوانی سے بہتر ہے کہ وہ اب خاموشی اختیار کرلیں۔ مخدوم خلیق الزماں کا کہنا تھا کہ ’ان کا درجہ پاکستان کے دس وزیراعظموں سے بھی اونچا ہے یہ عہدے اور وزارتیں آنی جانی چیزیں ہیں۔ اب انہیں اپنی سروری جماعت کی درگاہ ہالا اور عقیدتمندوں کو وقت دینا چاہیے۔ کراچی میں اپنی رہائش گاہ سے فون پر بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مخدوم خلیق نے کہا کہ امین سائیں ان کے لیے والد کے برابر ہیں اور ان کے مرشد ہیں وہ ان کو غلط مشورہ ہرگز نہیں دیں گے۔ مخدوم خلیق نے بتایا کہ ان کے والد مخدوم طالب المولیٰ نے انیس سو ستتر میں جب سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا تو ان کی عمر اٹھاون برس تھی اور مخدوم امین فہیم کی عمر اب اڑسٹھ برس یعنی دس سال زیادہ ہوگئی ہے۔ انہیں اپنے عقیدتمندوں کی سروری جماعت اور اپنے شہر ہالا کو زیادہ وقت دینا چاہیئے۔ مخدوم خلیق کا کہنا تھا کہ مخدوم امین فہیم کو پیپلزپارٹی کی قیادت کو بوقت ضرورت ون ٹو ون مشورے دینے چاہیئں اور اپنی رکنیت قومی اسمبلی کی معیاد پوری کرنے کےبعد آئندہ انتخابات میں خاندان کے جس فرد کو چاہیں آگے لائیں اور خود ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیں۔ مخدوم خلیق الزماں نے جنرل ضیاء کی مارشل لاء کےدوران پیپلزپارٹی میں سرگرم کردار ادا کیا تھا اور وہ ہالا کےمخدوم خاندان کے واحد فرد ہیں جو اپنے مریدوں اور کارکنوں کے ہمراہ سیاسی قیدی بنے تھے ۔ مخدوم خلیق اور بینظیر بھٹو کے درمیان اختلافات کے بعد انہوں نے پیپلزپارٹی کو خیرآباد کہا۔ وہ کچھ وقت بینظیر کے ناراض بھائی مرتضی بھٹو کے ساتھ سیاست میں سرگرم رہے مگر بعد میں انہوں نے خاموشی اختیار کرلی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی پیپلزپارٹی کا حصہ ہیں۔ مخدوم خلیق نے کہا کہ امین فہیم زرداری کے یار ہیں نہ انہوں نے وزارت اعظمی کا کوئی وعدہ کیا تھا تو اسمبلی میں یہ کہنا کہ زرداری یاروں کےیار ہیں، جو وعدہ کرتے ہیں نبھاتے ہیں مناسب نہیں تھا۔ آصف زردرای جن کے یار ہیں یا جن سے وعدے کیے ہیں وہ نبھا رہے ہیں۔ امین فہیم یا مخدوم خلیق کے وہ یار ہیں نہ ان سے انہوں نے کوئح وعدے کیا تھا۔ مخدوم خلیق نے بتایا کہ بینظیر بھٹو اور مشرف کے درمیان طے پانے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس میں مخدوم امین فہیم کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جب بینظیر لندن سے دبئی مشرف سے ون ٹو ون ملاقات کےلیے جارہی تھیں تو مخدوم امین کو لندن میں ہوتے ہوئے بھی پتا نہیں تھا مگر رحمان ملک اور بشیر ریاض بینظیر کے ہمراہ تھے۔ مخدوم خلیق کے مطابق ’بینظیر بھٹو بذاتِ خود مشرف سے بات کر رہی تھیں اس میں امین سائیں کا کوئی کردار نہیں تھا۔‘ مخدوم خلیق کا کہنا تھا کہ وزارت اعظمی کی دوڑ میں امین فہیم کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہوئی کہ انہیں مشرف حامی رہنماؤں کی حمایت اور مشرف مخالف سیاسی جماعتوں کی مخالفت حاصل تھی۔ انہیں پیر پگاڑا، ظفراللہ جمالی اور ایم کیو ایم کی حمایت تھی جنہوں نے امین سائیں سے حمایت کر کے دوستی نہیں دشمنی کی مگر مسلم لیگ نواز، فضل الرحمان، عمران خان اور جماعت اسلامی کی مخالفت کا سامنا تھا۔ مخدوم خلیق کے مطابق امین فہیم سے پیپلزپارٹی یا آصف زرداری نے وزارت اعظمی کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ اور خود بینظیر بھٹو نے بھی ان کےلیے اپنی وصیت میں ایک لفظ کا ذکر نہیں کیا۔ وصیت میں صرف آصف زرداری کا ذکر ہے۔ مخدوم خلیق کےمطابق سیاست بڑی بیرحم چیز ہوتی ہے، جس چرچل کو برطانیہ کی پارلیمنٹ جنگ عظیم فتح کرنےکے لیے خود لے کر آئی اسی چرچل کو اسی پارلیمنٹ نے گھر روانہ کردیا تھا۔ مخدوم خلیق کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی سے ان کے خاندان کی وابستگی ختم نہیں ہوگی ۔مگر امین سائیں کو خاموشی اختیار کرنی چاہیئے ۔ان کے مطابق امین فہیم کو اب خاندان کے نئے نسل کی رہنمائی کرنی چاہیئے، وہ جسے چاہیں اسے سرگرم سیاست میں موقع فراہم کریں۔ | اسی بارے میں گرفتار ججوں کی رہائی ’حکم‘24 March, 2008 | پاکستان امین فہیم اے آرڈی صدارت سےمستعفی24 March, 2008 | پاکستان تیس برس کا سیاسی سفر22 March, 2008 | پاکستان سندھ اسمبلی کا اجلاس 5 اپریل کو22 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||