اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | یوسف رضا گیلانی نے عملی سیاست کا آغاز سنہ انیس سو اٹھہتر میں کیا |
انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نومنتخب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی آج اعمتاد کا ووٹ لیں گے۔ پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کو نئی حکومت اور ن کی اتحادی جماعتوں کے اتحاد ’پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس، یعنی پی ڈی اے اور متحدہ قومی موومنٹ نے دو سو چونسٹھ ووٹ دے کر قائد ایوان منتخب کیا ہے۔ سکیورٹی کے لیے نئی وزیراعظم سیکرٹریٹ سے پی ٹی وی کے دفتر شاہراہ دستور عام ٹریفک کے لیے بند ہے اور پولیس نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے خار دار تاریں بچھا رکھیں ہیں۔ اعتماد کے ووٹ کی تحریک سید نوید قمر، اسفند یار ولی، خواجہ آصف، مولانا قاسم اور ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر کے دستخط سے پیش کی گئی ہے۔ ماضی میں جب بھی وزیراعظم بنتا رہا تو ایسی مثالیں موجود ہیں کہ قواعد معطل کرکے اُسی روز وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرتا رہا ہے۔ لیکن اس بار پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر کا کہنا ہے کہ وہ قواعد معطل کرکے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی غلط روایت کو روکنا چاہتے ہیں۔
 | اعتماد کے ووٹ کی تحریک  اعتماد کے ووٹ کی تحریک سید نوید قمر، اسفند یار ولی، خواجہ آصف، مولانا قاسم اور ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر کے دستخط سے پیش کی گئی ہے  |
اعتماد کا ووٹ کھلی رائے شماری کے ساتھ ہوگا۔ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ نو منتخب وزیرعظم کو اعتماد کے ووٹ کے دوران وزیراعظم منتخب ہونے سے بھی زیادہ ووٹ ملیں گے۔ واضح رہے کہ وزیرعظم اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد لاہور روانہ ہوجائیں گے جہاں ان کے صاحبزادے کا ولیمہ ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق سنیچر ہی کو کابینہ نے صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں حلف اٹھانا ہے۔ لیکن صدر پرویز مشرف لاہور میں ہیں۔ صدر کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کا دعویٰ ہے کہ کل شام گئے تک ایوان صدر کو کابینہ کی حلف برداری کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ ایسے عناصر ہیں جو ایوان صدر اور نو منتخب حکومت کے درمیاں میں جان بوجھ کر غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔ |