72 فوجی سول محکموں سے واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج نے سویلین محکموں سے بہتر (72) فوجیوں کو جن میں چھ میجر جنرل اور آٹھ بریگیڈئر شامل ہیں یکم مئی سے قبل واپس طلب کر لیا گیا ہے۔ فوج کے تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیئے گئے ایک بیان کے مطابق فوج کی سویلین محکموں سے واپسی مرحلہ وار ہوگی تاکہ ان اداروں کی کارکردگی پر اثر نہ پڑے۔ ان افسران کی واپسی کا فیصلہ ان محکموں کی جانب سے بیس مارچ تک موصول ہونے والی رپورٹوں کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ پاکستان فوج کے نئے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوج کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد ان فوجی افسران کی واپسی کا حکم دیا تھا جس کا مقصد فوج کو سیاست اور دیگر غیرعسکری امور سے دور رکھنا تھا۔ اس بیان کے بعد یہ واپسی کے باقاعدہ آغاز سے متعلق پہلی وضاحت ہے۔ بیان کے مطابق جونیئر کمیشنڈ، نان کمیشنڈ افسروں اور جوانوں کی واپسی کا عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔ دوسرے مرحلے میں چھیالیس افسران، جونیئر کمیشنڈ ، نان کمیشنڈ افسروں اور جوانوں کی واپسی اس برس اگست کے وسط تک مکمل کر لی جائے گی۔ فوجی افسران کی ریٹائرمنٹ کے بعد سول محکموں میں ملازمتوں کے بارے میں بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان کے لیے دس فیصد کوٹہ اب بھی مخصوص ہے۔ یہ تعیناتی وزیر داخلہ اور دیگر اعلی حکام پر مشتمل ایک بورڈ کی شفارش پر کی جاتی ہے۔ فوجی بیان کے مطابق اس یا اگلے برس بتیس ریٹائرڈ ہونے والے ایسے بتیس فوجی افسران ہیں جو سول محکموں میں تعینات ہیں۔ بیان کے مطابق انہیں ان محکموں میں کھپانے کی سفارشات بھی موجود ہیں۔ تاہم ان محکموں سے کہا گیا ہے کہ وہ انہیں دوبارہ ملازمت دینے سے پہلے وزارت دفاع سے اجازت لینی ہوگی۔ بیان میں واضع کیا گیا ہے کہ اب فوج کا جنرل ہیڈکواٹر کسی افسر کی جانب سے انفرادی سطح پر سول محکمے میں تعیناتی سے متعلق درخواست پر غور نہیں کرے گا۔ | اسی بارے میں سول اداروں سے فوجیوں کی واپسی11 February, 2008 | پاکستان جنرل کیانی کے بیان کا خیر مقدم07 March, 2008 | پاکستان تنازعوں میں نہ گھسیٹا جائے: کیانی06 March, 2008 | پاکستان ’جہادی کی ماں کو پینشن فوج سے‘29 February, 2008 | پاکستان ’مشرف ہمیں کیا فائدہ دے سکتا تھا‘25 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||