جنرل کیانی کے بیان کا خیر مقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے جمہوری عمل کی حمایت اور فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھنے کی بات کی ہے۔ آرمی چیف نے جمعرات کو کو کمانڈرز کانفرنس میں کہا تھا کہ فوج کو غیر ضروری تنازعات میں نہ گھسیٹا جائے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے آرمی اور نشینل کمانڈ کے درمیاں تعلقات کو آئینی حدود میں رکھنے پر بھی زور دیا تھا۔ جمعہ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج کو سیاست سے دور رہنے کے بارے میں آرمی چیف کے بیان کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس وعدے کی اہمیت یا قدر کا دارو مدار سنجیدہ اور موثر طریقے سے اس پر عمل کرنے پر ہی ہے۔ ترجمان نے فوج کے سیاست سے باہر رہنے کی امید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت یہ بغور دیکھے گی کہ واقعی فوج ایسا کرتی ہے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے بعد دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے آرمی چیف کے بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہی مطالبہ وہ کافی عرصے سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اٹھارہ فروری کو اپنے مینڈیٹ کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہے اور کوئی کسی کے اختیارات میں مداخلت نہ کرے۔ | اسی بارے میں تنازعوں میں نہ گھسیٹا جائے: کیانی06 March, 2008 | پاکستان ’شفاف انتخابات الیکشن کمشن کی ذمہ داری‘07 February, 2008 | پاکستان ’مشرف ہمیں کیا فائدہ دے سکتا تھا‘25 January, 2008 | پاکستان ’فوجی سیاستدانوں سے نہ ملیں‘18 January, 2008 | پاکستان ’ISI کی مداخلت بند کرائیں‘04 January, 2008 | پاکستان ’فوج استعفٰی دینے پر مجبور کرے‘03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||