تنازعوں میں نہ گھسیٹا جائے: کیانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملک میں جاری جمہوری عمل کی مکمل حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ فوج کو کسی غیر ضروری تنازعہ میں نہیں گھسیٹا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج سیاسی عمل سے باہر رہے گی۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ سے جاری ہونےوالے بیان کے مطابق یہ بات انہوں نے راولپنڈی میں ہونے والے کور کمانڈروں کے اجلاس سے خطاب میں کہی ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف نے ابتدائی کلمات میں اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے پرامن انداز میں انعقاد پر اطمینان ظاہر کیا اور معاشرے کے تمام طبقوں کی جانب سے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ آرمی چیف نے اعادہ کیا کہ فوج مکمل طور پر جمہوری عمل کی حمایت کرتی ہے اور منتخب حکومت کی مدد کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرنے کی پابند ہے۔ آرمی چیف نے کور کمانڈروں کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ فوج کے صدر سے فاصلے بڑھنے کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نیشنل کمانڈ سٹرکچر اور فوج کے درمیاں آئینی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ بیان کے مطابق آرمی چیف نے مفاہمت کی ضرورت واضح کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ کسی بھی سطح پر کسی قسم کی دراڑ وسیع تر قومی مفاد میں نہیں ہوگی۔ انہوں نے پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے فوج کے عہد کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایسا پاکستانی عوام کی مکمل حمایت سے ہی ممکن ہے۔ آرمی چیف نے اجلاس کو ’سپاہیوں کا سال‘ کے سلسلے میں فوجیوں کی رہائش، تعلیم، راشن اور وردی کے بارے میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔ بیان کے مطابق اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل مشتاق احمد بیگ اور شدت پسندوں کے ہاتھوں مارے جانے والے دیگر فوجی افسران اور کارکنوں کے لیے فاتحہ کی گئی۔ |
اسی بارے میں ’فوجی سیاستدانوں سے نہ ملیں‘18 January, 2008 | پاکستان سول اداروں سے فوجیوں کی واپسی11 February, 2008 | پاکستان فوج کی ساکھ کی بحالی کے لیے نیا حکمنامہ08 February, 2008 | پاکستان ’مشرف ہمیں کیا فائدہ دے سکتا تھا‘25 January, 2008 | پاکستان ’نیشنل سکیورٹی کونسل ختم کریں‘ 22 January, 2008 | پاکستان خطرات سے بچاؤ کا حل’قومی کوشش‘03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||