سول اداروں سے فوجیوں کی واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں جمعرات کو ہونے والی کور کمانڈرز کی ایک میٹنگ میں یہ فیصلے کیا گیا تھا کہ تمام سول اداروں سے حاضر سروس فوجی افسران کو واپس بلا لیا جائے گا۔ پیر کو فوج کے سربراہ جنرل کیانی کے دفتر نے اس حوالے سے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ ان احکامات کےمطابق واپڈا، قومی احتساب بیورو، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، وزارت داخلہ اور وزارت مواصلات سمیت متعدد اداروں سے فوجی افسروں کی واپسی کا عمل مرحلہ وار شروع ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ فوج کی سول اداروں سے واپسی کا عمل اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے پہلے شروع کر دیا جائے گا۔ اس سے پہلے جنوری میں جنرل کیانی نے فوجی افسران کے لیے سیاست دانوں سے میل جول پر پابندی کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کے حالیہ بیانات فوج کے متاثر ہونے والے کردار اور ساکھ کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہیں۔ واضح رہے کہ فوج کا تعلقاتِ عامہ کا شعبہ، فوج کے کردار کو بہتر بنانے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ سرکاری ٹیلی وژن پر ایک ٹی وی ڈارمہ بھی پر نشر کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’فوجی سیاستدانوں سے نہ ملیں‘18 January, 2008 | پاکستان ’جنرل کیانی تین نومبر کی عدلیہ بحال کر سکتے ہیں‘20 December, 2007 | پاکستان مشرف کی جگہ اشفاق پرویز کیانی02 October, 2007 | پاکستان صدرمشرف فوری خطرے سے محفوظ 29 November, 2007 | پاکستان شدت پسندی کا سیاسی مقابلہ29 November, 2007 | پاکستان ’طاقت کا نشہ یا مسائل کا بوجھ‘03 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||