BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 February, 2008, 07:24 GMT 12:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طاقت کا نشہ یا مسائل کا بوجھ‘

فائل فوٹو
صدر پرویز مشرف کو بیشتر حلقوں سے مخالفت کا سامنا ہے
صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف بھی اب ایک سابق فوجی ہیں لیکن شاید پرانے فوجی ہونے کا انہیں صرف دو ماہ کا تجربہ ہے اس لیے اپنے نئے حلقہِ احباب کو ہی اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ دن بہ دن تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔

اپنے سب سے بڑے حلقے یعنی فوج سے وہ ویسے ہی باہر ہوچکے ہیں اور اس ادارے میں ان کی حمایت اب کوئی ٹھوس بات نہیں رہی۔

پاکستانی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کو سیاست سے دور لے جانے کے جو اشارے دے رہے ہیں اس سے فوج کا اپنے ریٹائرڈ جنرل کی مدد کے لیے آنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

صدر مشرف پہلے روز سےسیاستدان نہیں تھے۔ ان کی حامی جماعت مسلم لیگ (ق) بھی انہیں کوئی خاص اہمیت نہیں دے رہی جس کا اندازہ اس پارٹی کی انتخابی مہم میں ان کا کوئی ذکر نہ ہونے سے ہوتا ہے۔ سو اب باقی کیا بچا؟

گزشتہ برس نو مارچ کو صدر کے لیے شروع ہونے والی مشکلات کا خاتمہ ہونے کو نہیں آ رہا اورصدر ہیں کہ اپنے ’ بپھرے‘ہوئے بیانات سے اس میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

حال ہی میں سابق جرنیلوں کی جانب سے ان کے مستعفی ہونے کے مطالبے کے ردعمل میں صدر نےانہیں ’ لات‘ مار کر نکالے ہوئے اور نوکریوں کے متلاشی عناصر قرار دیا۔

ایک سادہ اورشاید مخلص مشورے کو انہوں نے ایک بڑا ’غلط جواب‘ دے کر اپنے لیے مشکل پیدا کر لی اور ان کے اکثر سابق ساتھی فوجی جو ان کے مخالف تو شاید کافی عرصے سے تھے اب ان کے خلاف برسرِ پیکار بھی ہوگئے ہیں۔

دورہ یورپ کے دوران صدر نے صرف سابق فوجیوں کے بیان پر متنازعہ ردعمل ظاہر نہیں کیا بلکہ ایک سینئر پاکستانی صحافی کے سوال پر بھی ایسا جواب دیا کہ پہلے سے نالاں صحافی مزید متنفر ہوگئے۔

فائل فوٹو
جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کو سیاست سے دور لیجانے کے اشارے دے رہے ہیں۔ان کا مشرف کی مدد کے لیے آنامشکل دکھائی دے رہا ہے۔

ایسے جوابات کی دو ہی وجوہات ذہن میں آتی ہیں یا تو وہ طاقت کے نشے میں دھت ہوگئے ہیں اور انہیں سینئر جونیئر کا فرق دکھائی نہیں د یا پھر وہ اتنے تنہا اور مسائل میں گھرے شخص ہیں جو روزانہ کی تنقید سے تنگ آ کر ایسی باتیں کر رہا ہو۔

صدر کے بھڑکیلے جواب کے بعد سابق فوجی بھی ان کے خلاف میدان میں آگئے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک ہوٹل میں بڑی تعداد میں سابق سپاہی سے جرنیل تک جمع ہوئے اور اس اجتماع کو حزب اختلاف کی کسی سیاسی جماعت کا جلسِہ عام بنا دیا۔ پھر کیا تھا غصہ تھا، تنقید تھی اور تابڑ توڑ جواب دینے کی دھمکیاں تھیں۔

بعض عناصر کی جانب سے ان سابق فوجیوں پر ان کے ماضی میں مشرف جیسے فوجی آمروں کی حمایت کرنے ان کا ساتھ دینے پر قوم سے ندامت کے لیے بظاہر دباؤ بھی تھا تاہم سٹیج سیکٹری بریگیڈئر (ر) محمود قاضی کے ابتداء میں اس اعلان سے کہ ماضی کو ہرگز نہیں کُریدا جاسکتا بات ہی ختم ہوگئی۔

ویسے ماضی کے اقدامات پر بات نہ کرنے کی حمایت جنرل مجید ملک جیسے سابق فوجی یہ کہہ کر کر رہے تھے کہ اس سے ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ ان کا موقف کہ اس حمام میں صرف سابق فوجی ہی نہیں بلکہ جج، سیاستدان اور صحافی سب ننگے ہیں۔

 ایسے جوابات کی دو ہی وجوہات ذہن میں آتی ہیں یا تو وہ طاقت کے نشے میں دھت ہوگئے ہیں اور انہیں سینئر جونیئر کی عزت عزت نہیں دکھائی دے رہی یا پھر وہ اتنے تنہا اور مسائل میں گھرے شخص ہیں جو روزانہ کی تنقید سے تنگ آ کر ایسی باتیں کر رہا ہو۔

تاہم چند مبصرین کے خیال میں یہ ننگاپن سامنے لانا اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اگر ہر کسی کو اس کی غلطی کا احساس نہیں دلایا جائے گا تو بہتری کیسے آئے گی۔ ہر کوئی اپنی ’غلطی‘ کے لیے قومی مفاد جیسی کوئی ٹھوس وجہ ذہن میں تیار کر لیتا ہے۔ اسے بتانے کی ضرورت ہے کہ غلطی غلطی ہوتی ہے اور آئندہ کسی فوجی آمر کی بیساکھیاں بنے، نظریہ ضرورت کو دفن کرنے کی اور زرد صحافت ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اس مقصد کے لیے ماضی میں’ٹروتھ اینڈ ریکنسلیٹری کمیشن‘ جیسی تجاویز سامنے آچکی ہیں۔ یہ ایک بہتر مستقبل کا راستہ ہوسکتا ہے۔ البتہ فی الحال موجودہ سیاسی تناظر میں اس کا امکان کم ہی دکھائی دے رہا ہے لیکن شاید اسے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت ایک لازمی ضرورت قرار دے کر اس پر عمل درآمد کرے۔

صدر مشرف نے یقیناً اپنے جیسے سابق فوجیوں کو للکار کر کچھ اچھا نہیں کیا ہے۔ پاکستان میں سابق صدور کی فلاحی تنظیم تو کوئی نہیں لہذا انہیں شاید ایکس سروس مین سوسائٹی کی ضرورت کبھی نہ کبھی پڑ ہی جائے۔

حزب اختلاف ’تحریک کے لیے تیار‘
جمہوریت کے لیے حزب اختلاف مہم چلائےگی
فوجی کے تمغےالفاظ کی جادوگری
’چور کو گھر سے نکل جانے دیں‘
مشرف اور پرویز الہٰیوردی مخالِف دھڑا
’مشرف کی مشکلات کا حل ڈیل میں‘
پرویز مشرف’آئے گا پھر دوبارہ‘
جنرل مشرف کی صدارتی مہم کا آغاز
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوبینظیر کی پراعتمادی؟
بینظیر کی پراعتمادی یا مشرف سے ڈیل
اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف
02 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد