BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 February, 2008, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جہادی کی ماں کو پینشن فوج سے‘

جہادی کی والدہ
’میں تو ماں ہوں نا میرا دل نہیں مانتا۔ وہ زندہ ہوگا۔ مجھے اب بھی ان کے خطوط کا انتظار رہتا ہے۔‘
جام زادی ایک ایسی بیوہ ہیں جسے اپنے اٹھائیس سالہ بیٹے کی یاد نےزندہ رکھا ہوا ہے۔

ان کی دیہاتی زندگی کےطویل دن اپنے بیٹے کے زندہ ہونے یا نہ ہونے کے امکانات کو گنتےگزرتے ہیں۔ انہیں اپنے بیٹے ریاض حسین چانڈیو کے خطوط کا انتظار رہتا ہے مگر ان کے مطابق فوج کے ایک میجر سالانہ بارہ ہزار روپے ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔

سندھ کےضلع قمبر شہداد کوٹ کی تحصیل میرو خان کے قریبی گاؤں بھنمبھو خان چانڈیو کی رہائشی پچاس سالہ جام زادی کو تقریباً آٹھ سال قبل بتایا گیا تھا کہ ان کا اس وقت اٹھائیس سالہ بیٹا ریاض حسین کشمیر میں بھارتی فوج سے ایک جھڑپ کےدوران ہلاک ہوگیا ہے۔ مگر ان کےمطابق ’میں تو ماں ہوں نا میرا دل نہیں مانتا۔ وہ زندہ ہو گا۔ مجھے اب بھی ان کے خطوط کا انتظار رہتا ہے‘۔

نوجوان ریاض حسین ابتداء میں جماعت اسلامی کےکارکن بنے۔ انہوں نے تبلیغی جماعت کے ساتھ سفر کیا مگر اپنے آخری سفر کے دوران وہ لاہور میں کسی مدرسے میں رک گئے۔ جام زادی کےمطابق انہوں نےلاہور سے خط بھیجا کہ وہ ’جہاد پر کشمیر‘ جا رہے ہیں۔

جام زادی کےمطابق ریاض کے آخری خط کے چھ ماہ بعد رات کو دس بجے لاڑکانہ کے ایک مولوی غلام رسول کلہوڑو نے فون پر اطلاع دی کہ ریاض بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ جامزادی نے بتایا ’مجھے بیٹےکی نہ لاش ملی نہ کپڑے نہ کوئی نشانی۔ اس لیے میں کبھی کبھی گمان کرتی ہوں کہ میرا بیٹا ریاض زندہ ہے اور میں فوجیوں سے زندہ بیٹے کے پیسے کیوں لیتی ہوں؟‘

جام زدای کےمطابق ان کا بیٹا فوج میں بھرتی نہیں ہوا تھا وہ ملاؤں کےساتھ ہوتا تھا اور پہلی مرتبہ فوج کے ایک میجر نے ان سے قمبر کے ایک بزرگ غلام حسین شاہ کی معرفت ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ریاض کے تمام بھائی اور چچا بھی شریک تھے۔

جام زادی کے مطابق فاتحہ خوانی کے بعد میجر نے پچاس ہزار روپے ہمارے سامنے زمین پر رکھے۔ ہم میں سےکسی نے پیسوں کو جب ہاتھ نہیں لگایا تو بزرگ حسین شاہ نے خاموشی توڑی اور مجھ سےکہا کہ آپ میجر سے پیسے لے لیں اور ریاض کے لیے فاتحہ و خیرات کا بندوبست کریں۔

جب جام زادی سے انہیں رقم دینے والے میجر کا نام پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ان پڑھ ہونے کی وجہ سے وہ نام نہیں جانتیں۔

جام زادی کےمطابق اس کے بعد ہر سال سچل کالونی لاڑکانہ کے فوجی دفتر سے میجر انہیں بارہ ہزار نقد دیتے ہیں اور ان کے انگوٹھے کا نشان اور شناختی کارڈ کی کاپی اپنے پاس رکھتے ہیں۔

 مجھے بیٹےکی نہ لاش ملی نہ کپڑے نہ کوئی نشانی۔ اس لیے میں کبھی کبھی گمان کرتی ہوں کہ میرا بیٹا ریاض زندہ ہے اور میں فوجیوں سے زندہ بیٹے کے پیسے کیوں لیتی ہوں؟
جام زادی

واضع رہے کہ لاڑکانہ کے متمول علاقے سچل کالونی میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کےدفتر کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کاموں میں مصروف فوجی افسران کے دفتر اور رہائشی بنگلے بھی ہیں۔

پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تربیت یافتہ جہادی بھیجنے کے الزامات لگتے رہے ہیں مگر پاکستانی فوج نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیکر ہر بار رد کیا ہے۔

گاؤں بھمبھو چانڈیو کے نوجوان علی اسداللہ ریاض کے قریبی دوست ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض حسین نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں شدت پسند تنظیم جیش محمد میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

ان کی ہلاکت کے بعد جیش محمد سندھ کے ایک صوبائی رہنما عبداللہ شاہ مظہر ان کےگاؤں میں تعزیت کےلیے پہنچے تو ریاض حسین کی ان پڑھ ماں جام زادی نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ ’ہمارے بچوں کو کشمیر بھیجتے ہو تم خود کبھی شہید کیوں نہیں بنتے؟‘

جامزادی کےمطابق عبداللہ شاہ نے اپنا گریبان پھاڑ کر دکھایا اور کہا کہ ’ماں جی یہ گولیوں کےنشان ہیں لڑتے ہم بھی ہیں مگر شہادت تمھارے بیٹے کو نصیب ہوئی ہماری نصیب میں شہادت نہیں تو کیا کریں‘۔

مولوی عبدالطیف چانڈیو
ریاض ذہین تھا مگر جہاد کی طرف مائل ہوگیا اور منع کرنے کے باوجود وہ جہادی تنظیم کے ساتھ چلاگیا:مولوی عبدالطیف چانڈیو

گاؤں بھمبھو چانڈیو کی رہائشی جام زادی کے نو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ ان کےشوہر مصری خان چانڈیو کا شمارگاؤں کےمعززین میں ہوتا تھا۔ ان کا پورا خاندان شیعہ مسلک سے وابستہ ہے مگر ان کے ایک بیٹے ریاض حسین سنی شدت پسند بن گئے۔

گاؤں بھمبھو چانڈیو کے بزرگ مولوی عبدالطیف چانڈیو کےمطابق نوجوان ریاض ان کے پاس عربی سیکھنے آتے تھے۔ وہ ذہین تھے مگر جہاد کی طرف مائل ہوگئے اور منع کرنے کے باوجود وہ جہادی تنظیم کے ساتھ چلےگئے۔ گاؤں بھمبھو چانڈیو میں ریاض کی صرف یادیں ہیں آبائی قبرستان میں ان کی کوئی قبر نہیں۔

صوفی بزرگوں کی سیکولر تعلیمات کے تاریخی پس منظر کی وجہ سے سندھ میں جہادی تنظیموں کا بھرتی نیٹ ورک محدود ہے مگر ان کو ریاض حسین جیسے انٹر میڈیٹ پاس بیروزگار نوجوان مل ہی جاتے ہیں۔

جام زادی کو اپنے بیٹے کی ہلاکت کامعاوضہ فوجی میجر سے لینےمیں کبھی کبھار اچھا نہیں لگتا اور وہ میجر سے سوال کردیتی ہیں کہ فوج انہیں کس لیے پیسے دیتی ہے؟ جامزادی کےمطابق میجر کہتے ہیں ہم آپ کی خیریت پوچھنے آتے ہیں اور اسلام آباد کا حکم ہے کہ یہ رقم صرف اور صرف آپ کو دینی ہے کسی اور کو نہیں دے سکتے۔

اسی بارے میں
الگ الگ لیکن ساتھ ساتھ
24 January, 2008 | پاکستان
سندھ: دس ’شدت پسند‘ گرفتار
15 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد