BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 February, 2008, 19:08 GMT 00:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاری سیف اللہ: جو ہمیشہ بچتے رہے

دہشت گردوں سے پکڑے ہوئے مال کے ساتھ پولیس
اسلامی شدت پسندوں کے گروہ کبھی تو اپنی کارروائیوں میں کامیاب ہو گئے لیکن کبھی کبھی پولیس نہ پکڑ بھی لیا
بینظیر بھٹو کے قتل کے ایک سرکردہ مبینہ کردار قاری سیف اللہ اختر کی زندگی کی کہانی کافی پراسرار اور پیچیدگیوں سے بھری ہوئی ہے۔

پاکستان کے خفیہ ادارے ہوں یا القاعدہ، افغانستان کے طالبان ہوں یا پاکستان کے ’جہادی‘، قاری سیف اللہ ان سب کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

قاری سیف اللہ سن انیس سے اٹھاون میں جنوبی وزیرستان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کراچی کے بنوری ٹاؤن کے مدرسے جامعہ علوم الاسلامیہ سے تعلیم حاصل کی اور ان کے پاس درس نظامی کی سند بھی ہے۔ وہ اس مدرسے کے ان تین طالب علموں میں شامل تھے جو اٹھارہ فروری سن انیس سو اسی میں سویت یونین کے خلاف جہاد کے لیے افغانستان گئے تھے۔

قاری سیف اللہ کا اصل نام محمد اختر ہے اور ان کے عزیزوں اور دوستوں نے بعد میں ان کو سیف اللہ کہنا شروع کیا جس کا مطلب اللہ کی تلوار ہے۔ ان کے دوسرے دو ساتھی مولانا ارشاد احمد اور مولانا عبد الصمد سیال تھے۔

وہ اپنے آپ کو جمعیت الانصار الافغان کہلاتے تھے یعنی افغان لوگوں کی دوستوں کے جماعت۔

انہوں نے اپنی تین رکنی جماعت کا امیر مولانا ارشاد کو مقرر کیا۔ اس گروہ نے افغانستان کی حرکت انقلابِ اسلامی آف افغانستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا کیوں کہ افغان تنظیم بھی ان کی طرح دیو بندی مکتب فکر کی تھی۔

سن انیس سو اٹھاسی میں افغان جہاد کے خاتمے تک اس تنظیم میں شامل افراد کی تعداد ہزاروں میں ہوگئی تھی اور ان کا تعلق مختلف ممالک سے تھا۔

مولانا مسعود اظہر
قاری سیف اللہ مولانا مسعود اظہر کے ساتھی تھے

اسی دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علحیدگی کی تحریک شروع ہوگئی تو اس تنظیم نے اپنا نیا نام حرکت جہاد اسلامی رکھا اور نوے کی دہائی کے اوائل میں اس تنظیم نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔
لیکن اس تنظیم کو سن انیس سو اکانوے میں سخت نقصان پہنچا جب اس کے اہم رہنما مولانا فضل الرحمان خلیل اور مولانا مسعود اظہر اس سے الگ ہوگئے اور انہوں نے حرکت المجاہدین کے نام سے نئی تنظیم بنائی۔

تاہم یہ دونوں تنظیمیں سن انیس سو ترانوے میں ضم ہوگئیں اور انہوں نے حرکت الانصار کے نام سے نئی تنظیم بنائی اور اس کے سربراہ مولانا سعادت اللہ مقرر ہوئے۔

لیکن حرکت الانصار کے لیے اس وقت مشکلات شروع ہوگئیں جب کشمیر میں چار مغربی سیاحوں کو اغوا کرکے قتل کیا گیا۔ ان کے اغوا کی ذمہ داری الفاران نامی ایک غیر معروف تنظیم نے لی تھی۔ جس کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ وہ حرکت الانصار کا فرنٹ لائن گروپ تھا۔

لیکن اس وقت قاری سیف اللہ اختر کا نام بہت کم لوگوں کو معلوم تھا اور ان کا نام پہلی بار اس وقت سامنے آیا جب اکتوبر انیس سو پچانوے میں ان کو چار فوجی افسروں سمیت اس وقت کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

ان پر یہ الزام تھا کہ وہ راولپنڈی میں فوجی ہیڈ کواٹر پر قبضہ کر کے، بینظیر بھٹو کی حکومت گرا کر اسلامی ریاست بنانے چاہتے تھے۔

بینظیر کا تختہ الٹنے کی سازش
 قاری سیف اللہ چار فوجی افسروں کے ہمراہ اٹک قلعے میں قید بھی رہ چکے ہیں۔ قاری سیف اللہ چار فوجی افسروں کے ہمراہ اٹک قلعے میں قید بھی رہ چکے ہیں۔ میجر جنرل ظہیر اسلام عباسی اور برگیڈئر مستنصر بِلا سمیت چاروں فوجی افسروں کا کورٹ مارشل ہوا اور وہ سن دو ہزار ایک میں سزا مکمل کر کے رہا بھی ہوگئے۔ لیکن قاری سیف اللہ کو بغیر کسی مقدمہ چلائے نامعلوم وجوہات کی بنا پر رہا کر دیا گیا تھا

قاری سیف اللہ چار فوجی افسروں کے ہمراہ اٹک قلعے میں قید بھی رہ چکے ہیں۔ میجر جنرل ظہیر اسلام عباسی اور برگیڈئر مستنصر بِلا سمیت چاروں فوجی افسروں کا کورٹ مارشل ہوا اور وہ سن دو ہزار ایک میں سزا مکمل کر کے رہا بھی ہوگئے۔ لیکن قاری سیف اللہ کو بغیر کسی مقدمہ چلائے نامعلوم وجوہات کی بنا پر رہا کر دیا گیا تھا۔

کشمیر میں چار مغربی سیاحوں کے اغوا اور قتل کے بعد سن انیس سو ستانوے میں امریکہ نے حرکت الانصار کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ۔ اس کے بعد یہ تنظیم دوبارہ حرکت الجہاد اسلامی اور حرکت المجاہدین میں تقسیم ہوگئی۔
قاری سیف اللہ حرکت جہاد اسلامی کے سربراہ مقرر ہوئے جبکہ حرکت المجاہدین کے سربراہ فاروق کشمیری تعینات ہوئے اور مولانا فضل الرحمان خلیل اس کے سیکریڑی جنرل مقرر ہوئے۔

اس کے بعد قاری سیف اللہ افغانستان چلے گئے جہاں وہ طالبان کے ساتھ مل کر شمالی اتحاد کے خلاف لڑتے رہے۔ اس دوران کہا جاتا ہے کہ وہ ملا عمر اور اسامہ بن لادن کے قریب آگئے اور یہ بھی کہا جاتا ہے وہاں سے اس تنظیم کا دائرہ کار کئی اور ملکوں مثلاً ازبکستان، چیچنیا اور برما تک پھیل گیا۔

قاری سیف اللہ بارہ اکتوبر سن انیس سو ننانوے میں پرویز مشرف کی طرف سے ملک کا اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ پاکستان آئے لیکن ان کی سرگرمیاں افغانستان میں جاری رہیں۔

افغانستان میں ایک امریکی حملے کے نتیجے میں ان کا مرکزی دفتر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ان کے پچاس ساتھی ہلاک ہوگئے تھے لیکن قاری سیف اللہ محفوظ رہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ان کو وہاں سے نکلنا پڑا اور وہ وزیرستان میں منتقل ہوگئے۔ ایسے میں یکسر بدلتی صورتحال میں عالمی دباؤ کے نتیجے میں حکومت پاکستان کو طالبان سے راہیں جدا کرنا پڑیں اور طالبان، ان کے حامیوں اور القاعدہ کے خلاف گھیرا تنگ ہوگیا۔

طالبان
قاری سیف اللہ کو افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں سے نکلنا پڑا

سیف اللہ اختر کے پاس اس وقت صرف دو راستے رہ گئے تھے۔ ایک یہ کہ پاکستان کا انتخاب کریں یا پھر طالبان اور القاعدہ کا۔ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کرنے پر پاکستان کے صدر پرویز مشرف پر برہم تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے طالبان اور القاعدہ کا انتخاب کیا۔

سن دو ہزار دو میں قاری سیف اللہ سعودی عرب کے راستے دبئی منتقل ہوئے اور آٹھ اگست سن دو ہزار چار میں اس وقت کے وزیر اطلاعات اور نشریات شیخ رشید نے ایک اخباری کانفرنس میں اعلان کیا کہ قاری سیف اللہ کو دبئی کی حکومت نے گرفتار کر کے پاکستان کی حکومت کے حوالے کر دیا ہے۔

شیخ رشید نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ قاری سیف اللہ پاکستان میں مختلف کارروائیوں میں مطلوب تھے اور ان کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے۔ ان پر پاکستان میں کئی بم حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے جن میں غیر ملکیوں پر حملے بھی شامل تھے۔

قاری سیف اللہ کو انیس مئی دو ہزار سات کو تین سال تحویل میں رکھنے کے بعد خاموشی سے رہا کردیا گیا لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلا۔ حالانکہ ان کی گرفتاری کو حکومت نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔

قاری سیف اللہ اختر کے وکیل حشمت حبیب کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو زیر زمین ایک چھوٹے کمرے میں رکھا گیا اور اس دوران ان کو اہل خانہ سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں تھی۔

وکیل کے مطابق انہوں نے ہائیکورٹ میں قاری سیف اللہ کی حبس بے جاہ کی رٹ دائر کی لیکن حکومت پاکستان نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ وہ ان کی حراست میں نہیں ہیں۔

لیکن ستائیس مئی دو ہزار سات کو حکومت نے سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ قاری سیف اللہ کو تلاش کیا گیا ہے اور وہ گھر پہنچ گئے ہیں۔ اپنی رہائی کے بعد وہ اپنے گھر میں ہیں۔

قاری سیف اللہ اختر پر متعدد الزامات ہیں جن میں دسمبر سن انیس سو ننانوے میں بھارتی جہاز کے اغوا کا الزام بھی ہے۔ اس کے علاوہ ان کو امجد فاروقی کا قریبی ساتھی بھی بتایا جاتا ہے جن پر بھارتی جہاز کے اغوا کے علاوہ بھارتی پارلیمان پر حملے کا الزام ہے۔ لیکن قاری سیف اللہ پر آج تک باقاعدہ مقدمہ چلا اور نہ ہی ان کے خلاف کچھ ثابت ہوا۔

قاری سیف اللہ کون؟
بینظیر نے کتاب میں قاری سیف اللہ کا ذکر کیا ہے
بینظیر بھٹو اصل سوال یہ ہے
قاتل کون ہیں اور اس قتل کا فائدہ کس کو پہنچا؟
مارنے والے کون تھے
’بینظیر سے رابطے کے بعد طالبان مطمئن تھے‘
 بینظیر بھٹو پوسٹرقتل کے 40 دن بعد
ابھی عبوری چالان تک پیش نہیں ہو سکا
سوگواربینظیر کا چہلم
سخت حفاظتی انتظامات میں ہزاروں کی شرکت
چارسدہ دھماکہ، زخمی’نفی میں سر ہلا دیا‘
چارسدہ دھماکہ، عینی شاہد نے کیا دیکھا
اسی بارے میں
گولی نہیں لگی: برطانوی پولیس
08 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد