بینظیر قتل: چالیس دن گزرنے کے بعد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کو چالیس روز ہوچلے لیکن تاحال تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی اور نہ ہی عبوری چالان عدالت میں پیش ہوسکا ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق دہشت گردی کے مقدمات کا عبوری چالان عدالت میں سات روز کے اندر پیش کرنا لازم ہوتا ہے لیکن بینظیر بھٹو جیسی اہم شخصیت کے قتل کیس میں یہ قانونی تقاضا بھی پورا نہیں کیا گیا۔ تحقیقات میں تاخیر سے ایسے شبہات کو تقویت مل رہی ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اور فوجی صدر ضیاءالحق کے قتل مقدمات کی طرح بینظیر بھٹو کے قتل کا معاملہ بھی کسی فائل میں ہی دب کر رہ جائے گا۔ لیکن کئی تجزیہ کار اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کا معاملہ لیاقت علی خان اور ضیاءالحق سے مختلف ہے اور اگر اس کی پردہ پوشی یا خانہ پوری کی گئی تو اس سے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کی وجہ جاننے کے لیے بی بی سی اردو نے جب عینی شاہدین، پولیس اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے بات چیت کی تو قتل کی ایک بڑی وجہ ناقص سکیورٹی ہی سامنے آئی۔ ستائیس دسمبر کو لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کے بعد واپس جاتے ہوئے جلسہ گاہ کے قریب ہی بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا۔ اس واقعے کے عینی شاہد اور پیپلز پارٹی کے سینئر کارکن ابن رضوی کہتے ہیں کہ ’محترمہ بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے انتظامات انتہائی ناقص تھے اور ایسا لگتا تھا کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت سب کچھ ہوا‘۔ تاہم سکیورٹی کی کوتاہی کے بارے میں راولپنڈی کے پولیس چیف سعود عزیز نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات بالکل غلط ہے کی سکیورٹی ناقص تھی، پندرہ سو پولیس اہلکار تعینات تھے، ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ڈی ایس پی سمیت پانچ اہلکار زخمی ہوئے‘۔ پولیس چیف نے کہا کہ ’سکیورٹی دو طرفہ معاملہ ہوتا ہے، جسے خطرہ ہوتا ہے اس کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ محتاط رہے، سکیورٹی صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں ہوتی‘۔
لیکن ابن رضوی کہتے ہیں کہ ’دنیا نے دیکھا ہے، ویڈیو فوٹیجز موجود ہیں کہ پولیس کی گاڑیاں مری روڈ پر پہنچ چکی تھیں، اگر پولیس والے ساتھ ہوتے تو کیا صرف ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوتا؟ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ راولپنڈی کو پانی فراہم کرنے والے ادارے واسا کی عمارت میں آٹھ دس مشکوک افراد بیٹھے رہے۔ میں نے خود پولیس سے کہا کہ انہیں ہٹاؤ لیکن پولیس والوں نے کہا کہ یہ لوگ ڈیوٹی پر ہیں۔میں نے زیر تعمیر عمارت کے اوپر بیٹھے چادر اوڑھے داڑھی والے شخص کو ہٹانے کا کہا تو بھی پولیس نے انہیں نہیں ہٹایا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں جلسہ کی انتظامی کمیٹی میں شامل تھا اور پولیس کے ساتھ طے ہوا تھا کہ بی بی آئیں گی مری روڈ سے اور واپس گوال منڈی سے جائیں گی، کیونکہ جلسہ ختم ہونے کے بعد عوام مری روڈ پر آجاتے ہیں۔ بھٹو صاحب ہوں یا بینظیر جب بھی لیاقت باغ آئے تو واپسی کا روٹ ہمیشہ گوال منڈی کی طرف سے رہا‘۔ اس بارے میں پولیس چیف کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس تحریری ثبوت موجود ہے کہ بینظیر بھٹو کی واپیس کا روٹ گوال منڈی سے طے نہیں ہوا تھا۔ پولیس کی تینوں گاڑیاں بینظیر بھٹو کے ساتھ تھیں تب ہی تو پولیس اہلکار زخمی ہوئے‘۔ ابن رضوی کہتے ہیں کہ ’محترمہ پر تین سمتوں سے فائرنگ ہوئی، اندھیرے میں کالے شیشوں والی عینک پہنے کمانڈو نما شخص کھلم کھلا پستول لے کر واسا کی عمارت سے باہر آیا، پولیس نے اُسے نہیں روکا اور اس نے بی بی کی گاڑی کے بائیں جانب فائرنگ کی اور دھماکہ بھی بائیں جانب ہوا۔ لیکن محترمہ کے سر پر زخم دائیں طرف کیسے ہوگیا؟ مجھے یقین ہے کہ بی بی کو کسی ماہر نشانچی نے واسا کی عمارت یا پانی کے ٹینک کے اوپر سے نشانہ بنایا ہے‘۔ اس بارے میں اصل حقائق تو سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کی رپورٹ سے ہی پتہ چلیں گے۔ بینظیر بھٹو کی میڈیا ٹیم کے رکن نذیر دھوکی کہتے ہیں کہ ’حکومت اس بات کا جواب دے کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ ایمبولینس کیوں نہیں تھی؟ ڈاکٹر مصدق مختصر وقت میں جنرل ہسپتال کیسے پہنچے؟ اور محترمہ کے قتل اور میڈیکل رپورٹ کا اعلان جنرل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے بجائے ڈاکٹر مصدق نے کیوں کیا؟‘۔ ان سوالات کے بارے میں ڈاکٹر مصدق اور راولپنڈی جنرل ہسپتال کے متعلقہ عملے سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی دستیاب نہیں ہوسکا۔
فوجداری وکیل اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان کہتے ہیں کہ میڈیکل رپورٹ میں زخم کی جو تفصیل بتائی گئی ہے وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ محترمہ کو کسی ماہر نشانچی نے جدید ہتھیار سے حدف بنایا۔ بینظیر بھٹو کی گاڑی جس زاویہ سے رکی ہے وہاں سے اگر گولی کے رخ کا اندازہ لگایا جائے تو رخ پانی کے لیے واسا کے بڑے ٹینک کا بھی بنتا ہے۔ لیکن قتل کی وجوہات اور قاتلوں کے بارے میں چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں حکومت کے متضاد دعوؤں کی وجہ سے محترمہ کے قتل کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے پہلے بینظیر کے قتل کی وجہ گولی اور بعد میں بم کا ٹکڑا بتایا اور الزام شدت پسندوں کے سرغنہ بیت اللہ محسود پر عائد کرتے ہوئے ان کی گفتگو کی ٹیپ بھی جاری کر دی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ ٹیپ میں بیت اللہ محسود اپنے ساتھی کو بینظیر کے قتل پر مبارک باد دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے اگلے ہی روز وزارت داخلہ کے ترجمان نے اپنا بیان تیسری بار بدلتے ہوئے کہا کہ اصل میں بینظیر بھٹو اپنی گاڑی کا کنڈا لگنے سے ہلاک ہوئیں۔ انہوں نے کنڈے کی خون آلود تصویر بھی فراہم کی اور کہا کہ فائرنگ اور بم حملہ تو بیت اللہ محسود نے ہی کروایا لیکن بینظیر کی موت لینڈ کروزر کے کنڈے سے واقع ہوئی۔ لیکن جب اس بارے میں ویڈیو ثبوت سامنے آنا شروع ہوئے کہ بینظیر کو کنڈا تو لگا ہی نہیں تو حکومت نے کنڈا لگنے کی وجہ سے بینظیر کی موت واقع ہونے کے اپنے بیان پر معذرت کر لی۔ ایسے میں بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے انٹیلی جنس اداروں اور خود صدر مشرف پر بھی انگلیاں اٹھیں۔ صدر پرویز مشرف کی غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو بریفنگ کے دوران جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ بینظیر کے قتل میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور آپ کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے تو صدر نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا سوال ان کی شان کے مطابق نہیں کیونکہ وہ کوئی قبائلی نہیں ہیں کہ قتل جیسے جرائم میں یقین رکھتے ہوں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں پر بینظیر بھٹو کے قتل کےالزامات کو ختم کرنے کے لیے برطانوی ماہرین کی خدمات تو حاصل کی گئیں لیکن ان کا کام صرف یہ بتانا ہے کہ قتل کس چیز سے ہوا۔ جبکہ قاتل کون ہیں، انہیں کس نے تیار کیا اور منصوبہ ساز کون ہے، جیسے متعدد سوالات کا جواب تلاش کرنا پاکستانی تفتیش کاروں کی ذمہ داری ہے۔ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی اگر صدر مملکت کہہ دیں کہ بینظیر کا قتل بیت اللہ محسود نے کروایا ہے تو کیا کسی پولیس افسر کی ہمت ہے کہ وہ دوسری بات کہے؟۔
|
اسی بارے میں افسران کی عدم موجودگی کا نوٹس03 January, 2008 | پاکستان ’برطانوی مدد کیسے یاد آگئی‘02 January, 2008 | پاکستان ’تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جائے‘03 January, 2008 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||