BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 February, 2008, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملے کیلیےقاری سیف کی خدمات‘

بینظیر بھٹو
’کراچی کے استقبالیہ جلوس پر حملے کے لیے قاری سیف اللہ اختر کی خدمات حاصل کی گئیں۔‘
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے اپنی کتاب ’ریکنسیلی ایشن، اسلام، ڈیموکریسی اینڈ دی ویسٹ‘ (مفاہمت: اسلام، جمہوریت اور مغرب) میں کہا ہے کہ پچھلے سال اٹھارہ اکتوبر کو ان کے کراچی کے استقبالیہ جلوس پر حملے کی منصوبہ بندی لاہور میں ہوئی تھی اور اس کام کے لیے قاری سیف اللہ اختر کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

انہوں نے کتاب میں لکھا ہے کہ جب وہ پاکستان پہنچیں تو ان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ بھی بچیں گی یا نہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ان کو مشرف حکومت اور ایک مسلمان دوست ملک نے بتایا تھا کہ خودکش حملہ آوروں کے چار گروہ ان کو ہلاک کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان اطلاعات کے مطابق یہ حملہ آور طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود، اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن، اسلام آباد میں قائم لال مسجد کے جنگجو اور کراچی میں قائم عسکریت پسند گروہ نے تیار کیے ہیں۔

کراچی میں ہونے والے حملوں کے بارے میں لکھا کہ اٹھارہ اکتوبر کے حملے کے بعد ان کو اطلاع ملی تھی کہ کراچی حملوں کی منصوبہ بندی لاہور میں ایک میٹنگ میں کی گئی تھی۔

ان اطلاعات کے مطابق مخالف سیاسی گروہ سے تعلق رکھنے والے تین افراد کی خدمات پانچ لاکھ ڈالر کے عوض حاصل کی گئی تھیں۔ بینظیر نے لکھا ہے کہ ان کے ذرائع کے مطابق ان کے نام اعجاز اور سجاد ہیں اور تیسرے کا نام ان کو یاد نہیں رہا۔

ان میں سے ایک ہلاک ہو گیا کیونکہ وہ جائے وقوعہ سے بم دھماکے سے قبل نکل نہیں سکا۔ اندازہ یہ ہے کہ وہ وہی شخص تھا جو ان کو بچہ پکڑنے پر زور دے رہا تھا۔ تاہم حملہ کرنے کے لیے بم بنانے والے کی ضرورت تھی اور اس موقع پر قاری سیف اللہ اختر کی ان کو مارنے کے منصوبے میں آمد ہوئی۔

واضح رہے کہ بینظیر بھٹو نے کراچی حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایک شخص نےبچہ اٹھایا ہوا تھا اور وہ اصرار کر رہا تھا کہ وہ (بینظیر) بچے کو گود میں لیں۔

بینظیر بھٹو کے مطابق قاری سیف اللہ اختر نوے کی دہائی سے ان کے خلاف برسر پیکار ہیں اور 1993 سے 1996 تک ان کی دوسری حکومت گرانے کی کاوشوں میں بھی پیش پیش رہے۔

قاری سیف اللہ اختر کا نام پہلی مرتبہ اکتوبر 1995 میں منظر عام پر آیا تھا جب میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کی سربراہی میں فوجیوں کے ایک گروہ کو بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی پر قاری سیف اللہ اخترکی حرکت الانصار کی مدد سے ملک میں نظام خلافت پر مبنی ایک حکومت قائم کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔

لیکن جہاں جنرل عباسی اور ان کے فوجی گروہ کے تمام ارکان کا کورٹ مارشل کیا گیا وہاں قاری سیف اللہ اختر کو کچھ دیر بعد رہا کردیا گیا تھا۔

 قاری سیف اللہ اختر کے وکیل حشمت حبیب کے مطابق سپریم کورٹ کے دباؤ میں ان کو چار سے پانچ ماہ قبل خاموشی سے چکوال کے قریب رہا کر دیا گیا تھا۔ حشمت حبیب کا کہنا ہے کہ آجکل قاری سیداللہ اختر فلاح عامہ کے کاموں میں مصروف ہیں۔

قاری سیف اللہ اختر پر دہشت گردی کے متعدد الزامات ہیں جن میں سے کوئی ثابت نہیں ہوا۔ ان میں دسمبر 1999 میں بھارتی جہاز کے اغوا کا الزام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ قاری سیف اللہ اختر کو امجد فاروقی کا بھی قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے جو بھارتی جہاز کے اغوا کے علاوہ بھارتی پارلیمان پر حملے کے بھی موجب بتائے جاتے ہیں۔

پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق قاری سیف اللہ اختر کا شمار افغان طالبان رہنماء ملا عمر کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔

قاری سیف اللہ اختر کو اگست 2004 میں متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے پاکستان بھیجا گیا تھا۔ ان کی بازیابی کے لیے دو بار سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ تاہم حکومت کا یہی موقف رہا کہ وہ حکومتی تحویل میں نہیں ہیں۔

قاری سیف اللہ اختر کے وکیل حشمت حبیب کے مطابق سپریم کورٹ کے دباؤ میں ان کو چار سے پانچ ماہ قبل خاموشی سے چکوال کے قریب رہا کر دیا گیا تھا۔

حشمت حبیب کا کہنا ہے کہ آجکل قاری سیف اللہ اختر فلاح عامہ کے کاموں میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں
گولی نہیں لگی: برطانوی پولیس
08 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد