BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 February, 2008, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گولی نہیں لگی: برطانوی پولیس

بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو کی ہلاکت سے چند لمحے پہلے لی گئی ایک تصویر
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے کہا ہے کہ ان کی ہلاکت دھماکے کی شدت سے ہوئی نہ کہ گولی لگنے سے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کی تحقیقاتی رپورٹ جمعہ کو ٹیم کے سربراہ جان میک برائن نے نگران وزیر داخلہ کو پیش کی جو کہ پاکستانی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب چودھری عبدالمجید نے نیوز کانفرنس میں پڑھ کر سنائی۔

رپورٹ میں برطانوی تفتیشی ماہرین کی ٹیم نے اس تاثر کو بھی رد کیا ہے کہ گولی چلانے اور خود کش حملہ کرنے والے دو علیحدہ علیحدہ افراد ہیں۔ ان کے مطابق گولی چلانے والا اور خود کش حملہ کرنے والا ایک ہی شخص ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جائے حادثہ کا تفصیلی معائنہ نہ کرنے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کی عدم دستیابی اور متاثرین کی شناخت کے عوامل جیسی سہولیات موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ جاننا مشکل ہوگیا کہ اصل میں ہوا کیا۔

وڈیو فٹیج کا معائنہ
 ویڈیو فوٹیج کے بغور معائنے سے پتہ چلتا ہے کہ بم دھماکے سے عشاریہ چھ سیکنڈ پہلے تک بینظیر بھٹو کا سر ابھی مکمل طور پر غائب نہیں ہوا۔ لیکن بم دھماکے کے وقت ان کا سر کہاں تھا اس بات کا حتمی تعین نہیں کیا جاسکتا، اس لیے یقینی طور پر یہی نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ وہ دھماکے کے وقت تک اپنے آپ کو پوری طرح سے گاڑی کے اندر نہیں لے جاسکیں تھیں
لیکن سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے مطابق اس کے باوجود جو بھی شواہد دستیاب ہیں وہ قابل بھروسہ نتیجہ اخد کرنے کے لیے کافی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کی موت کی وجہ جاننے کے لیے زیادہ تر انحصار راولپنڈی جنرل ہسپتال میں لیے گئے ایکسرے پر کیا گیا لیکن بینظیر بھٹو کو ابتدائی طبی امداد دینے والے عملے اور مقتولہ کو غسل دینے والے ان کے اہل خانہ کے افراد سے بھی کافی اہم معلومات ملیں۔

سکاٹ لینڈ کی رپورٹ کے مطابق بینظیر بھٹو کے سر کے دائیں جانب جو زخم ہے وہ کسی گولی لگنے سے نہیں ہے۔ محدود ایکسرے مواد ، مکمل پوسٹ مارٹم اور سی ٹی سکین نہ ہونے کی وجہ سے برطانوی ہوم آفس کے پیتھالوجسٹ ڈاکٹر نیتھینیل کیری سے مشاورت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسے میں اوپری دھڑ میں قطعی طور پر گولی لگنے کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔

تاہم رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جب ان کے اخذ کردہ نتائج کو بینظیر بھٹو کی لاش سے قریبی تعلق رکھنے والوں کی باتوں اور دیگر دستیاب شواہد کے تناظر میں جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ گولی لگنے کا کوئی زخم نہیں ہے۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ان کے اخذ کردہ نتائج کا جب بینظیر بھٹو کی لاش سے قریبی تعلق رکھنے والوں کی باتوں اور دیگر دستیاب شواہد کے تناظر میں جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ گولی لگنے کا کوئی زخم نہیں ہے۔

جائے حادثہ سے ملے نمونے
 پولیس نے جائے حادثہ سے بائیس نمونے اکھٹے کیے تھے جن میں سے پندرہ نمونے برطانیہ بھیجے گئے تھے اور وہاں کے ڈاکٹروں نے ان نمونوں کو دیکھتے ہوئے یہ رائے دی تھی کہ چونکہ بینظیر بھٹو کا پوسٹمارٹم نہیں ہوا تھا اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے یا گاڑی کا لیور لگنے کی وجہ سے تاہم انہوں نے ان نمونوں کی رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کی موت سر پر کوئی آہنی چیز لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے
ایڈیشنل آئی جی
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر کیری کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں محترمہ بینظیر بھٹو شدید سر کی چوٹ کی وجہ سے ہلاک ہوئیں یہ زخم انہیں بم دھماکے کے نتیجے میں لگا اور گاڑی سے اوپر نکلنے والی کھڑکی پر کسی جگہ ان کا سر ٹکرایا‘۔

جس طرح کا دھماکہ خیز مواد بینظیر بھٹو کے قتل میں استعمال کیا گیا اس کی شدت یا رفتار چھ ہزار سے نو ہزار میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اس طرح کے دھماکے کی مقدار اور فاصلے جہاں ہوں وہاں دھماکے سے اتنی قوت پیدا ہوتی ہے جیسا کہ اس معاملے میں ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاڑی کی ساخت پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔ اس گاڑی میں ’بی 6 گریڈ آرمر نصب ہے جو گولی یا دھماکے کو روکنے کی قوت رکھتا ہے۔ اس گاڑی میں بدقسمتی سےجسے ’سن روف، کہا جا رہا ہے وہ سن روف نہیں بلکہ (ایمرجنسی میں) باہر نکلنے کی کھڑکی ہے۔ اس کا نو سینٹی میٹر کا ٹھوس کنڈا بھی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ویڈیو فوٹیج کے بغور معائنے سے پتہ چلتا ہے کہ بم دھماکے سے عشاریہ چھ سیکنڈ پہلے تک بینظیر بھٹو کا سر ابھی مکمل طور پر غائب نہیں ہوا۔ لیکن بم دھماکے کے وقت ان کا سر کہاں تھا اس بات کا حتمی تعین نہیں کیا جاسکتا، اس لیے یقینی طور پر یہی نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ وہ دھماکے کے وقت تک اپنے آپ کو پوری طرح سے گاڑی کے اندر نہیں لے جاسکیں تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خود کش بمبار گاڑی کے پیچھے اور بینظیر بھٹو سے محض ایک سے دو میٹر کے فاصلے پر تھا۔

ایڈشنل آئی جی نے کہا کہ پولیس نے جائے حادثہ سے بائیس نمونے اکھٹے کیے تھے جن میں سے پندرہ نمونے برطانیہ بھیجے گئے تھے اور وہاں کے ڈاکٹروں نے ان نمونوں کو دیکھتے ہوئے یہ رائے دی تھی کہ چونکہ بینظیر بھٹو کا پوسٹمارٹم نہیں ہوا تھا اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے یا گاڑی کا لیور لگنے کی وجہ سے تاہم انہوں نے ان نمونوں کی رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کی موت سر پر کوئی آہنی چیز لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

تفتیشی ٹیم کے سربراہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے ارکان نے اُن پولیس اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی جو سانحے کے وقت لیاقت باغ میں ڈیوٹی پر معمور تھے تو اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس وقت یہ سانحہ رونما ہوا اس وقت گاڑی میں سوار افراد سے جن میں ناہید خان اور مخدوم امین فہیم بھی شامل ہیں اس بارے میں معلومات اکھٹی کرنا چاہ رہے ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے پولیس کو کوئی بیان نہیں دیا۔

اسی بارے میں
حکومت کا طریقہ قتل پر زور
14 January, 2008 | پاکستان
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد