بینظیر قتل میں کون ملوث ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات ابھی نامکمل ہیں۔ یہ ہلاکت ہوئی کیسے یہ سوال کم اہم نہیں لیکن شاید اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس میں ملوث عناصر کا ہے کہ وہ کون ہیں۔ ٹھوس حقائق کی عدم موجودگی میں شک کی انگلی القاعدہ سے لے کر پاکستانی طالبان اور سرکاری اداروں کی جانب مسلسل اٹھائی جا رہی ہے۔ آخر ملزم ہیں کون اور کیا ان کے پاس ایسا حملہ کرنے کی صلاحیت ہے؟ اس بحث میں ایک قدرے نیا عنصر بےنظیر بھٹو کی جانب سے اسامہ بن لادن کے سولہ سالہ بیٹے حمزہ پر لگایا جانے والا یہ الزام ہے کہ وہ کراچی ریلی پر خودکش حملے کے لیے بھیجے گئے چار گروپوں میں سے ایک کی قیادت کر رہے تھے۔ شدت پسندوں پر الزام تو بینظیر بھٹو لگاتی رہیں ہیں لیکن اس طرح حمزہ بن لادن کا نام لے کر بات پہلی مرتبہ کی گئی ہے۔ بےنظیر کے مطابق حمزہ بن لادن کے بارے میں اطلاع انہیں صدر پرویز مشرف کے علاوہ ایک دوست مسلم ملک نے دی تھی۔ یہ انکشاف انہوں نے ہلاکت سے قبل اپنی لکھی گئی ایک نئی کتاب کے اقتباسات میں کیا ہے۔ یہ کتاب آئندہ چند روز میں منظر عام پر آئے گی۔ بےنظیر بھٹو اور اسامہ بن لادن کے درمیان نظریاتی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بےنظیر ماضی میں اسامہ پر ان کی حکومت گرانے کی کوشش کا الزام لگا چکی تھیں۔ پھر ان کے شدت پسند مخالف بیانات کو مذہبی عناصر کوئی اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے تھے۔ بین الاقوامی اور حکومتی سطح پر شک القاعدہ پر ہی کیا جا رہا ہے۔
القاعدہ پر نظر رکھنے والے افغان صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق مغربی ممالک میں کارروائیاں نہ کرسکنے کی وجہ سے ہوسکتا ہے القاعدہ نے توجہ پاکستان میں امریکی نواز سمجھے جانے والے رہنماؤں کی جانب مبذول کر دی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کراچی حملے کے بعد بےنظیر نے حمزہ بن لادن پر الزام پر خاموشی کیوں اختیار کی اور اس کا محض کتاب میں ذکر کرنا ضروری کیوں سمجھا۔ بعض مبصرین کے خیال میں اس کا مقصد مغرب میں کتاب کو مقبول بنانا بھی ہوسکتا ہے۔ یا پھر اس سے سیاسی مقاصد حاصل کرنا تھا۔ لہذا کراچی حملے کے بعد یہ بات نہیں کی گئی۔ کتاب میں بےنظیر بھٹو نے جن دیگرگروپوں کی بات کی ہے ان میں بیت اللہ محسود اور کراچی کے ایک گروہ کا ذکر بھی شامل ہے۔ حکومت بھی انہیں القاعدہ کے بعد مشتبہ نمبر دو یعنی پاکستانی شدت پسندوں کے طور پر ظاہر کر رہی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی ستائیس دسمبر کے واقعہ کے بعد کہہ چکی تھی کہ انہیں بیت اللہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان کو ہلاک نہیں کرنا چاہتے۔ تو پھر ان کا نام بےنظیر بھٹو نے کتاب میں کیوں لیا؟ اس کا دفاع پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کرتے ہوئے کہا کہ بےنظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں القاعدہ کے کسی گروپ کا نام نہیں لیا تھا۔ ’اسی وجہ سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ تقحقیات اقوام متحدہ سے کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کوئی خاص گروپ ہے البتہ یہ ضرور کہا تھا کہ جو بھی گروپ ہے وہ اپنے طور پر یہ کام نہیں کرسکتا۔ اس لیے یہ اگر بیت اللہ محسود کے گروپ نے کیا ہو یا کسی اور نے، اس کے پس پردہ ضرور ایک بڑی چیز ہے جسے بےنقاب کرنے کی ضرورت ہے۔‘ عسکری تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ حملہ القاعدہ کے کہنے پر کسی پاکستانی گروپ کا بھی ہوسکتا ہے۔ اس کا ثبوت جند اللہ جیسی ان کالعدم تنظیموں کو اس ہلاکت سے نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہونا بتایا جاتا ہے جن کا ایجنڈا بھی ملکی ہی ہے۔
خیال ہے کہ بےنظیر بھٹو نے کتاب میں کراچی کے جس گروپ کی بات کی ہے وہ یہی ہوسکتا ہے۔ تاہم جنداللہ کی اکثر کارروائیاں اب تک کراچی تک ہی محدود دیکھی گئی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے سابق سیکٹری برگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ کہتے ہیں کہ اصل ضرورت بھی یہی ہے کہ دیکھنا یہ چاہیے کہ اس ہلاکت کا فیصلہ کس نے کیا تھا۔ ’بےنظیر بھٹو یا پاکستان کو نقصان پہنچانے میں کس کا ہاتھ تھا۔ کون یہ چاہتا ہے؟ القاعدہ پہلے ہی پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کرچکی ہے۔ وہ کسی چھوٹے موٹے گروپ کو بھی یہ حملہ کرنے کا کہہ سکتی ہے۔‘ اگرچہ تحریک طالبان پاکستان اس ہلاکت سے لاتعلقی کا اظہار کرچکی ہے لیکن ان کی بےنظیر بھٹو کے کسی بیان پر کوئی ناراضگی تو نہیں تھی۔ ترجمان مولوی عمر کا کہنا تھا کہ بےنظیر بھٹو نے واپسی کے ابتدائی دنوں میں اعلانات کیئے تھے کہ وہ طالبان کا خاتمہ کریں گی اور یہ علاقہ امریکہ کے حوالے کر دیں گی۔ ’لیکن بعد میں (بینظیر بھٹو کے ساتھ) افہام و تفہیم ہوئی تھی۔ ٹیلیفون پر رابطے ہوئے تھے جس کے بعد ابہام دور ہوگیا تھا۔ طالبان اس پر مطمئن ہوئے تھے اور وہ سلسلہ ختم ہوگیا تھا۔‘ مقامی طالبان کا موقف ہے کہ وہ نہ تو بےنظیر بھٹو کے سیاسی حریف تھے نا کچھ اور جو ان کے خلاف کارروائی کرتے۔ ’ہماری جنگ اب تک حکومت کے خلاف تھی۔ہم نے عام لوگوں پر کوئی ہاتھ نہیں اٹھایا ہے۔‘ خودکش حملوں کی حد تک تو پاکستان میں متحرک شدت پسند تنظیمیں اہلیت رکھتی ہیں لیکن جیسا کہ خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ لیاقت باغ کا حملہ کسی ماہر نشانہ باز (سنائپر) کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ صحافی سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ طالبان نے افغانستان میں امریکیوں سے کئی سنائپر رائفلز چھینی تھی اور ان میں سے چند پاکستانی شدت پسندوں کے پاس بھی ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں’جوں جوں حکومتوں نے سکیورٹی سخت کی القاعدہ اور طالبان نے طریقۂ ورادات میں بھی تبدیلی کی ہے۔ وہ گاڑی، موٹر سائیکل جیسی تبدیلیاں لاچکے ہیں۔ اور اگر وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ حملہ کامیاب ہو تو امکان ہے کہ فائرنگ اور خودکش حملے کے ساتھ ساتھ انہوں نے نشانہ باز بھی استعمال کیا ہو۔‘ پیپلز پارٹی اور بعض دوسرے لوگ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کا شک ان کے سیاسی مخالفین، حکومت، فوج یا خفیہ اداروں پر بھی کرتے ہیں۔ ان پر شک ہے کہ وہ اس قتل میں اگر براہ راست ملوث نہیں تو کسی نہ کسی طریقے اس معاملے میں ان کا ہاتھ ضرور ہوسکتا ہے۔ صدر مشرف اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں۔ سکاٹ لینڈ یارڈ شاید وجۂ ہلاکت تو معلوم کر لے لیکن ملزمان کی نشاندہی کے بغیر اس میں ملوث افراد یا گروہوں کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ | اسی بارے میں ’سانحہ کارساز ٹریبونل غیر قانونی‘01 February, 2008 | پاکستان ’جیمرز کام نہیں کر رہے تھے‘28 January, 2008 | پاکستان اکتوبر ٹریبونل پر عدم اعتماد مسترد26 January, 2008 | پاکستان بینظیر کےسکیورٹی ایڈوائزر طلب08 January, 2008 | پاکستان کراچی دھماکے، تفتیشی ٹریبیونل31 October, 2007 | پاکستان بارہ مئی واقعات، سماعت ملتوی22 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||