BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 January, 2008, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کےسکیورٹی ایڈوائزر طلب

کراچی دھماکے
کار ساز بم دھماکے میں ایک سو چالیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو پر اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے بم حملے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی ٹریبونل نے بینظیربھٹو کے سکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور میجنر جنرل (ر) احسان احمد کو اکیس جنوری کو طلب کر لیا ہے۔

یہ دونوں اشخاص اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی اپنی جماعت کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی کے انتظامات کے نگراں تھے۔

ریٹائرڈ جسٹس غوث محمد کی سربراہی میں قائم عدالتی ٹرائبیونل نےاب تک داخلہ اور پولیس کے محکموں کے دس اہلکاروں کے بیانات قلمبند کئے ہیں۔

منگل کو بھی ٹرائیبونل نےایس ایس پی سکیورٹی شاہ مظہر بھلی اور ڈی ایس پی جام ظفر اللہ دھاریجو کے بیانات قلمبند کیے۔

دونوں پولیس افسران کے بیانات اب تک ٹرائبیونل کے سامنے پیش ہونے والے پولیس اہلکاروں سے زیادہ مختلف نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت جائے واردات پر سٹریٹ لائٹس بند نہیں تھیں اور دونوں نے ہی یہ بھی کہا کہ بینظیربھٹو کی حفاظت پر مامور پارٹی کارکنان جنہیں جانثاران بینظیر بھٹو کا نام دیا گیا تھا، انہیں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نےمنتخب کیا تھا اس لیے ان کی تلاشی نہیں لی گئی تھی۔

ٹرائبیونل نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ان کے ساتھ بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کمیٹی میں شامل (ر) میجر جنرل احسان احمد کو سمن جاری کرتے ہوئے اکیس جنوری کو پیش ہونے کا حکم دیا اور سماعت پرسوں یعنی جمعرات دس جنوری تک ملتوی کردی۔

پہلا موقع ہے
 اس سے پہلے ٹرائبیونل نےصرف متعلقہ سرکاری اہلکاروں کے بیانات قلمبند کئے ہیں اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو پیش ہونے کے لیے نہیں کہا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اس ٹرائبیونل نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔اس سے پہلے ٹرائیبونل نےصرف متعلقہ سرکاری اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔

دوسری جانب( ر) میجر جنرل احسان احمد نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر پارٹی قیادت سے بات کریں گے اور اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں گے۔

جبکہ پیپلز پارٹی نے ٹرائبیونل کے وجود اور اس کی اس ہدایت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما نثار احمد کھوڑو کا کہنا ہے کہ یہ ٹرائبیونل ان کی جماعت کے مطالبے پر نہیں بنایا گیا۔

بینظیر بھٹو نے غیرملکی ماہرین کے تعاون سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے اسے ماننے سے انکار کیا تھا۔

نثار احمد کھوڑو نے کہا :’جب ہماری ایف آئی آر ہی داخل نہیں کی گئی تو ہم اس رویے کو کیا نام دیں گے جو حکومت نے اٹھارہ اکتوبر سےاب تک ہمارے ساتھ روا رکھا ہے، یہ صرف دکھاوے کی کارروائی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بینظیر بھٹو کا دستخط شدہ بیان تھانے میں جمع کرایا گیا تھا اور عدالت نے بھی پولیس کو اس بیان کے مطابق ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن پولیس نےاس پر بھی عمل نہیں کیا۔ ’تو جب ایف آئی آر ہی داخل نہیں کی گئی اور اس پر پولیس نے تفتیش ہی نہیں کی اور پھر جائے واردات کو دو گھنٹوں کے اندر اندر دھوبھی دیا گیا تو پھر اس ٹرائبیونل کا کیا مصرف۔‘

یاد رہے کہ یہ ٹرائبیونل نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کی حکومت نے اکتیس اکتوبر کو اس وقت تشکیل دیا تھا جب سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پہلے ہی اس حملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سماعت یکم نومبر سے شروع کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔

تاہم اس کے چند دن بعد صدر پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرکے انہیں دوبارہ برطرف کردیا تھا۔

اسی بارے میں
عادت بدلنا ہوگی
19 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد