بینظیر کےسکیورٹی ایڈوائزر طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو پر اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے بم حملے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی ٹریبونل نے بینظیربھٹو کے سکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور میجنر جنرل (ر) احسان احمد کو اکیس جنوری کو طلب کر لیا ہے۔ یہ دونوں اشخاص اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی اپنی جماعت کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی کے انتظامات کے نگراں تھے۔ ریٹائرڈ جسٹس غوث محمد کی سربراہی میں قائم عدالتی ٹرائبیونل نےاب تک داخلہ اور پولیس کے محکموں کے دس اہلکاروں کے بیانات قلمبند کئے ہیں۔ منگل کو بھی ٹرائیبونل نےایس ایس پی سکیورٹی شاہ مظہر بھلی اور ڈی ایس پی جام ظفر اللہ دھاریجو کے بیانات قلمبند کیے۔ دونوں پولیس افسران کے بیانات اب تک ٹرائبیونل کے سامنے پیش ہونے والے پولیس اہلکاروں سے زیادہ مختلف نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت جائے واردات پر سٹریٹ لائٹس بند نہیں تھیں اور دونوں نے ہی یہ بھی کہا کہ بینظیربھٹو کی حفاظت پر مامور پارٹی کارکنان جنہیں جانثاران بینظیر بھٹو کا نام دیا گیا تھا، انہیں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نےمنتخب کیا تھا اس لیے ان کی تلاشی نہیں لی گئی تھی۔ ٹرائبیونل نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ان کے ساتھ بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کمیٹی میں شامل (ر) میجر جنرل احسان احمد کو سمن جاری کرتے ہوئے اکیس جنوری کو پیش ہونے کا حکم دیا اور سماعت پرسوں یعنی جمعرات دس جنوری تک ملتوی کردی۔
دوسری جانب( ر) میجر جنرل احسان احمد نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر پارٹی قیادت سے بات کریں گے اور اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں گے۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے ٹرائبیونل کے وجود اور اس کی اس ہدایت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما نثار احمد کھوڑو کا کہنا ہے کہ یہ ٹرائبیونل ان کی جماعت کے مطالبے پر نہیں بنایا گیا۔ بینظیر بھٹو نے غیرملکی ماہرین کے تعاون سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے اسے ماننے سے انکار کیا تھا۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا :’جب ہماری ایف آئی آر ہی داخل نہیں کی گئی تو ہم اس رویے کو کیا نام دیں گے جو حکومت نے اٹھارہ اکتوبر سےاب تک ہمارے ساتھ روا رکھا ہے، یہ صرف دکھاوے کی کارروائی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بینظیر بھٹو کا دستخط شدہ بیان تھانے میں جمع کرایا گیا تھا اور عدالت نے بھی پولیس کو اس بیان کے مطابق ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن پولیس نےاس پر بھی عمل نہیں کیا۔ ’تو جب ایف آئی آر ہی داخل نہیں کی گئی اور اس پر پولیس نے تفتیش ہی نہیں کی اور پھر جائے واردات کو دو گھنٹوں کے اندر اندر دھوبھی دیا گیا تو پھر اس ٹرائبیونل کا کیا مصرف۔‘ یاد رہے کہ یہ ٹرائبیونل نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کی حکومت نے اکتیس اکتوبر کو اس وقت تشکیل دیا تھا جب سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پہلے ہی اس حملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سماعت یکم نومبر سے شروع کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔ تاہم اس کے چند دن بعد صدر پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرکے انہیں دوبارہ برطرف کردیا تھا۔ | اسی بارے میں بینظیر! مشرف کے پاکستان میں خوش آمدید19 October, 2007 | پاکستان عادت بدلنا ہوگی19 October, 2007 | پاکستان بےنظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، دو درجن سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ18 October, 2007 | پاکستان کراچی دھماکوں کی وسیع تر مذمت 18 October, 2007 | پاکستان ’ بینظیر کا ساتھ نہ چھوڑیں گے‘30 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||