’جہادیوں‘ کے اجتماع پر چھاپہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان پولیس نے بدھ اور جمعرات کی شب قدیر آباد علاقے کی مسجد جلال باقری پر چھاپہ مار کر ساٹھ کے قریب افراد کوگرفتار کیا۔تاہم پولیس نے تمام دن کی تفتیش، فنگر پرنٹس، فوٹو اور کوائف جمع کرنے کے بعد سات افراد کو زیر حراست رکھا جبکہ بقیہ افراد کو شخصی ضمانتوں پر رہا کر دیا گیا۔ ملتان پولیس کےایس پی تفتیش چودھری شوکت نے بی بی سی اردو کو فون پر بتایا ہے کہ زیر حراست افراد میں ممکنہ طور پر جہادی تنظیم الاثر پنجاب کے صوبائی سربراہ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ حرکت المجاہدین ،جیش محمد اور حرکت الانصار جیسی جہادی تنظیموں سے مختلف اوقات میں اختلافات کی بناء پر الگ ہونے والے بعض جہادیوں نے پنجاب پولیس کے ریکارڈ کے مطابق سنہ دو ہزار دو کے قریب ایک نئی جہادی تنظیم’الاثر‘ کی بنیاد ڈالی تھی۔ اطلاعات کے مطابق مسجد جلال باقری پر چھاپہ خفیہ ایجنسیوں کی ایک رپورٹ کے بعد مارا گیا۔ ذرائع کےمطابق رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ افغانستان سے واپسی پر بعض جہادی رہنماء پاکستان میں ایک اور نئی جہادی تنظیم کےقیام کےلیے باقر آباد کی مسجد جلال باقری میں جمع ہوئے تھے۔ ملتان پولیس کےایک ڈی ایس پی ملک کرامت نے بی بی سی کو بتایا ہےکہ گرفتار افراد میں اکثریت پشتو بولنے والوں کی تھی مگر سرائیکی او رپنجابی بولنے والے افراد بھی ان میں شامل تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جہادیوں کےاجتماع سے انہیں کوئی اسلحہ یا ایسا مواد نہیں ملا جس پر پابندی عائد ہو۔ دوسری جانب تفتیش کے بعد رہا کیے جانے والے افراد نے مقامی میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا ہے کہ وہ مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے کہ پولیس نے انہیں بلاجواز گرفتار کرلیا۔ ملتان پولیس کے ایس پی چودھری شوکت کےمطابق پولیس نے رات تین بجے کے قریب چھاپہ مارا اور وہ کسی نماز کےا وقات نہیں ہیں۔انہوں نے کہا’ہو سکتا ہے کوئی نماز قضا ادا کر رہا ہو‘۔ | اسی بارے میں جھنگ سے تین شدت پسند گرفتار27 February, 2008 | پاکستان کراچی:’عیسائیوں کے قاتل گرفتار‘26 February, 2008 | پاکستان قاری سیف اللہ کی گرفتاری کا دعوٰی26 February, 2008 | پاکستان مغوی اے ایس پی اور محافظ بازیاب 23 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||