قاری سیف اللہ کی گرفتاری کا دعوٰی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر بھٹو کے قافلے پر حملے کے حوالے سے مطلوب ملزم قاری سیف اللہ اختر کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔ اس حملے میں بینظیر بھٹو تو محفوظ رہی تھیں تاہم ایک سو پینتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق قاری سیف اللہ کو پیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وزیرِ داخلہ حامد نواز کے مطابق’ غالب امکان ہے کہ(قاری سیف اللہ) بینظیر بھٹو کی ریلی پر حملے میں ملوث تھا۔ وہ ایک اہم کردار ہے‘۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے اپنی کتاب ’ریکنسیلی ایشن، اسلام، ڈیموکریسی اینڈ دی ویسٹ‘ (مفاہمت: اسلام، جمہوریت اور مغرب) میں کہا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر کو ان کے کراچی کے استقبالیہ جلوس پر حملے کی منصوبہ بندی لاہور میں ہوئی تھی اور اس کام کے لیے قاری سیف اللہ اختر کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔
قاری سیف اللہ اختر کو اس سے قبل اگست 2004 میں متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے پاکستان بھیجا گیا تھا اور ان کی بازیابی کے لیے دو بار سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ تاہم حکومت کا یہی موقف رہا کہ وہ حکومتی تحویل میں نہیں ہیں۔ قاری سیف اللہ اختر کے وکیل حشمت حبیب کے مطابق سپریم کورٹ کے دباؤ میں ان کو چار سے پانچ ماہ قبل خاموشی سے چکوال کے قریب رہا کر دیا گیا تھا۔ قاری سیف اللہ ستمبر سن انیس سو پچانوے میں جب اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کی کوشش میں بھی شریک تھے اور گرفتار بھی ہوئے تھے، لیکن ان پر مقدمہ نہیں چلایا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اس وقت کے حاضر سروس میجر جنرل ظہیرالاسلام عباسی سمیت چار فوجیوں کے ہمراہ قاری سیف اللہ بھی اٹک قلعہ میں قید رہ چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں قاری سیف اللہ: جو ہمیشہ بچتے رہے 13 February, 2008 | پاکستان ’حملے کیلیےقاری سیف کی خدمات‘12 February, 2008 | پاکستان مزید ’لاپتہ‘ واپس، مقدمہ چلتا رہے گا25 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کیس، سماعت ملتوی04 May, 2007 | پاکستان قاری سیف اللہ پاکستان کےحوالے08 August, 2004 | پاکستان القاعدہ ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ 12 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||