BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی:’عیسائیوں کے قاتل گرفتار‘

لاشیں
ملزمان نے ادارہ امن و انصاف کے دفتر میں سات افراد کو قتل کیا تھا۔
کراچی پولیس نے ستمبر دو ہزار دو میں عیسائی فلاحی ادارے سے تعلق رکھنے والے سات افراد کو قتل کرنے کے الزام میں منگل کو تین افراد کوگرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کا تعلق افغان جہاد سے رہا ہے۔

پولیس نے ملزمان کے نام زبیرالدین عرف شرجیل، آصف اور عاطف بتائے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان ملزمان نے سات سال قبل ایم اے جناح روڈ پر واقع رمپا پلازہ میں قائم ادارہ امن و انصاف کے دفتر میں سات افراد کو قتل کیا تھا۔ادارۂ امن و انصاف کراچی میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے زیرِ انتظام چلایا جاتا ہے۔

پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد نے افغان جہاد میں حصہ لیا تھا لیکن القاعدہ یا طالبان سے ان کے تعلق کا اب تک ثبوت نہیں ملا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد نے اپنا نیا گروپ تحریکِ اسلامی لشکرِ محمدی کے نام سے بنایا تھا جسے برطانیہ سے آنے والا عامر حسان نامی پاکستانی شخص مالی مدد دے رہا تھا۔

 ان افراد نے اپنا نیا گروپ تحریکِ اسلامی لشکرِ محمدی کے نام سے بنایا تھا جسے برطانیہ سے آنے والا عامر حسان نامی پاکستانی شخص مالی مدد دے رہا تھا۔

سی آئی ڈی پولیس کے ایس پی راجہ عمر خطاب نے منگل کو بی بی سی کو بتایا کہ ان ملزمان نے سنہ دو ہزار دو میں اپنی کارروائیاں شروع کی تھیں اور یہ اسی ادارے کے چئرمین سمیت مزید کئی افراد کے قتل میں بھی ملوث ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان وارداتوں کے بعد اس گروپ نے اپنی سرگرمیاں معطل کردی تھیں اور روپوشی اختیار کرلی تھی۔ لیکن گزشتہ برس یہ گروپ دوبارہ فعال ہوگیا اور مزید چند افراد کو قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس گروپ کا مقصد غیر مسلم غیر سرکاری تنظیموں کو پاکستان میں کام کرنے سے روکنا تھا اور اسی لئے وہ دہشت پھیلا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

سی آئی ڈی پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ گروپ اٹھارہ افراد پر مشتمل تھا اور گذشتہ سال انہوں نے اپنے گروپ کو تحریکِ اسلامی لشکرِ محمدی کا نام دیا تھا۔

پولیس کے مطابق گروپ کے اٹھارہ میں سے پندرہ ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ پولیس تین مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوشش کررہی ہے جن میں اس گروپ کو مالی امداد فراہم کرنے والا عامر حسان بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں
سلام کہنے پر دو سال سزا
05 June, 2006 | پاکستان
صدارت کے مسیحی امیدوار
24 January, 2007 | پاکستان
توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ
03 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد