BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارت کے مسیحی امیدوار

کرسچن نیشنل پارٹی کے صدر جوزف فرانسس
پاکستان کرسچن نیشنل پارٹی کے صدر اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن جوزف فرانسس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے صدارتی انتخاب میں امیدوار ہوں گے، گو ملک کا آئین اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔

جوزف فرانسس نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے واشگاف الفاظ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ ملک کے تمام شہری مساوی حیثیت کےمالک ہوں گے اور کسی کے انفرادی عقیدہ کا امور مملکت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

 ہم حکومت کی نیت جاننا چاہتے ہیں۔ اگر ہمیں آئینی و سیاسی حقوق حاصل ہیں تو آئین میں سے وہ شق ختم کی جائے جس کے تحت غیرمسلم ملک کا سربراہ نہیں ہوسکتا۔
جوزف فرانسس
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتیں درحقیقت بے شمار مسائل و مشکلات کا شکار ہیں لیکن صدر جنرل پرویزمشرف نے عالمی میڈیا میں بار بار دعوی کیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو اکثریت کے مساوی آئینی، سیاسی اور شہری حقوق حاصل ہیں۔

جوزف فرانسس نے کہاکہ صدر مشرف کے دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے ان کی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملک میں ہونے والے آئندہ صدارتی انتخابات میں اپنی پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس ملک میں اقلیتوں کو اکثریت کے برابر آئینی و شہری حقوق حاصل ہیں تو پھر کوئی غیرمسلم شہری صدر کا الیکشن کیوں نہیں لڑسکتا۔

جب جوزف فرانسس سے پوچھا گیا کہ ملک کے آئین میں صدر مملکت اور ومیراعظم کے عہدوں کے لیے مسلمان ہونے کی شرط لازمی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہم حکومت کی نیت جاننا چاہتے ہیں۔ اگر ہمیں آئینی و سیاسی حقوق حاصل ہیں تو آئین میں سے وہ شق ختم کی جائے جس کے تحت غیرمسلم ملک کا سربراہ نہیں ہوسکتا۔‘

فرانسس جوزف نے کہا کہ انہیں صدارتی انتخاب لڑنے سے روکا گیا تو وہ پاکستان کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ فرانسس جوزف نے کہا کہ وہ مسلم اکثریت کو پاکستان کے قیام میں عیسائی اقلیت کا کردار یاد دلانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب متحدہ ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو پنجاب اسمبلی کے اسپیکر عیسائی مسلک کے دیوان بہادر ایس پی سنگھ تھے جن کے کاسٹنگ ووٹ کی وجہ سے موجودہ سرحدوں کا تعین ہوا ورنہ پاکستان کی سرحد واہگہ کی بجائے لاہور شہر کے علاقوں کلمہ چوک اور شاہدرہ کے پاس ہوتی۔

اسی بارے میں
کراچی: مسیحیوں کا احتجاج
25 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد