BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 December, 2008, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، ہلاکتیں 280
غزہ
غزہ پر ہفتے سے سروع ہونے والے حملے اتوارکو بھی جاری رہے

اسرائیلی جیٹ طیاروں نے اتوار کو غزہ کے علاقے پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر سے جاری اس فضائی کارروائی میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو سو اسّی تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد سات سو کے لگ بھگ ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق اتوار کو ہونے والے حملوں میں اسرائیلی طیاروں نے جنوبی غزہ میں مصر سے غزہ تک ایندھن پہنچانے والی سرنگ سمیت تین سرنگوں کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیل نے چالیس سرنگوں کی تباہی کا دعوٰی کیا ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ فلسطینی ان سرنگوں کو اسلحہ کی سمگلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تیس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد آپریشن کے آغاز سے اب تک نشانہ بنائے جانے والے مقامات کی تعداد دو سو دس ہو گئی ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق پولیس کے محکمے سے ہے جبکہ بڑی تعداد میں عورتیں اور بچے بھی بمباری کا نشانہ بنے ہیں۔غزہ میں ہسپتال کے عملے نے کہا ہے کہ آپریشن تھیٹر زخمیوں سے بھر گئے ہیں اور ان کو ادویات کی کمی کا سامنا ہے اور مطلوبہ تعداد میں سرجن بھی دستیاب نہیں ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں

اسرائیل کی جانب سے اس بات کا اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی زمینی فوج بھی بھیج سکتا ہے۔ اسرائیل نے اپنے چھ ہزار پانچ سو ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کر لیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود باراک نے کہا ہے کہ فوجی کارروائی کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے اور اگر فضائی حملے حماس کا رویہ تبدیل کرنے میں ناکام رہے تو زمینی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

اسرائیلی کارروائی کے جواب میں اتوار کی صبح اسرائیل پر داغے جانے والے راکٹوں سے غزہ کے مشرق میں نیتیووت نامی قصبے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ راکٹ نیتیووٹ کے علاوہ اشدود نامی شہر پر بھی راکٹ گرے تاہم وہاں سے کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اسرائیلی حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ سنیچر اور اتوار کو حماس کے کارکنوں نے اسرائیل پر ایک سو دس راکٹ فائر کیے ہیں۔

اسرائیلی حملوں کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی مصر کی سرحد پر بھی جمع ہو گئے ہیں تاہم فلسطینی سکیورٹی فورسز انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں۔

ادھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مشرقِ وسطٰی کی تازہ صورتحال پر ہنگامی بات چیت مکمل کر لی ہے اور جارحانہ کارروائیوں کے خاتمے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ غزہ میں تیزی سے خراب ہوتے حالات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے علاوہ یہ مسئلہ عرب لیگ جس کا اجلاس قاہرہ میں ہو رہا ہے اٹھایا جائے گا۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ پر گزشتہ کئی دہائیوں میں ہونے والے اس بدترین حملے پر پوری دنیا سے فوری ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔امریکہ نے اس صورت حال کا ذمہ دار حماس کو قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق فوجی کارروائی کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے

صدر بش کے ترجمان گورڈن جونڈور نے حماس کو ’ٹھگ اور دہشت گرد‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا اگر حماس کی طرف سے حملےنہ کیے جاتے تو اسرائیلی حملوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے تشدد کو فوری طور پر بندکرنے کو کہا ہے جبکہ یورپی یونین نے کہا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔

غزہ میں حماس کے رہنما اسماعیل حانیہ نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فوجی دباؤ بڑھانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ زمینی حقائق کو اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی شرائط پر جنگ بندی مسلط کر سکے۔

حماس کے جلا وطن رہنما خالد مشال نے اسرائیل کے خلاف نیا انتفادا شروع کرنے کو کہا ہے۔حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ اب کوئی سفید جھنڈوں اور ہتھیار ڈالنے کی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں نے اس سے بدترین قتل عام نہیں دیکھا ہے۔

غزہغزہ، اسرائیلی حملے
حملے حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے: اسرائیل
حملوں کا مقصد
غزہ پر کیے گئے حملے اور اسرائیل کے مقاصد
غزہغزہ کی ناکہ بندی
غزہ: ’بد ترین حالات‘، عرب ممالک پر تنقید
’ناتجربہ کار‘ لیونی
موساد کی ایجنٹ قدیمہ کی سربراہ
 اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بین تقسیم کے ساٹھ سال
فلسطینی پناہ گزین آج بھی انتظار میں ہیں
’لبنان جنگجنگ کیوں کی؟
’لبنان جنگ ایک بڑی اور سنگین ناکامی‘
ایریہ ہینڈلراسرائیل کے ساٹھ سال
میں وہاں موجود تھا: 93 سالہ ایریہ ہینڈلر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد