لبنان جنگ،’بڑی اور سنگین‘ ناکامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ 2006 میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ کی تحقیقات کرنے والے اسرائیلی کمیشن نے اسے اسرائیل کی’بڑی اور سنگین‘ ناکامی قرار دیا ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کی حتمی رپورٹ جنگ کے نتیجے کا احاطہ کرتی ہے اور اس میں حزب اللہ کے چھاپہ ماروں پر اس متنازعہ حملے کا بھی ذکر ہے جو جنگ بندی پر عملدرآمد سے چند گھنٹے قبل کیا گیا تھا جس میں تینتیس اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ الیاہو ونوگریڈ کا کہنا ہے کہ’ہمیں فوجی اور سیاسی میدان میں بروقت فیصلہ کرنے میں ناکامی کے ثبوت ملے ہیں‘۔ یروشلم میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’جنگ کے خاتمے کی حکمتِ عملی طے کیے بغیر اس کا آغاز کرنا ایک سنگین غلطی تھی‘۔ جنگ بندی سے قبل متنازعہ حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس حملے سے اسرائیلی کی پوزیشن میں کوئی بہتری نہیں آئی اور فوجی کمانڈ میں ’سنگین خامیاں‘ سامنے آئیں۔ الیاہو ونوگریڈ نے اپنی حتمی رپورٹ اس ابتدائی رپورٹ کے نو ماہ بعد وزیراعظم اولمرت کے حوالے کی ہے جس میں چونتیس روزہ جنگ کے حوالے سے’بڑی ناکامیوں‘ کا ذکر کیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے باوجود مستعفی نہیں ہوں گے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شدید تنقید کی وجہ سے ان کی حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں ان کا ساتھ چھوڑ سکتی ہیں۔ | اسی بارے میں لبنان کیلیئے اقوام متحدہ کی اپیل25 July, 2006 | آس پاس ’ہمیں دنیا سے اجازت مل گئی ہے‘27 July, 2006 | آس پاس اسرائیل: فاسفورس بموں کااعتراف 22 October, 2006 | آس پاس حزب اللہ اور اسرائیل: مذاکرات جاری01 November, 2006 | آس پاس ’مستعفی ہونے کے لیے تیار ہوں‘12 November, 2006 | آس پاس لبنانی وزیراعظم کےخلاف مظاہرہ01 December, 2006 | آس پاس لبنان بحران کے لیے عرب سفارتکاری03 December, 2006 | آس پاس احتجاج جاری رہے گا: حسن نصراللہ08 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||