’مستعفی ہونے کے لیے تیار ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اسرائیلی فوجی جنرل،جنھوں نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ میں فوج کی کمان سنبھالی تھی، اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے۔ بریگیڈیر جنرل گال ہرش فوجیوں کے اس دستے کے انچارج تھے جس نے بارہ جولائی کو حزب اللہ کا سامنا کیا تھا۔سرحد پہ ہونے والے اس حملے میں تین فوجی ہلاک ہوئے تھے اور دو کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔یہ دونوں فوجی ابھی تک حراست میں ہیں۔ جنرل گال ہرش دوسرے اعلی عہدیدار ہیں جنھیں لبنان سے چونتیس دن کی جنگ کے بعد اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اسرائیلی فوج کے شمالی دستے کے کمانڈر اودی آدم نے فائر بندی کے ایک مہینے بعد ستمبر میں استعفٰی دے دیا تھا۔ ان کی ملازمت اس وقت ہی خطرے میں پڑ گئی تھی جب جنگ کے دوران حزب اللہ نے ہزاروں راکٹ اسرائیل پر پھینکے تھے۔ بارہ جولائی کو ہونے والے واقعے کی تحقیقات کرنے والے گروپ کے سربراہ ریٹائر جنرل ڈورون الموگ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ جنرک گال ہرش کے برخواست ہونے کی حمایت کریں گے۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق جنرل الموگ کی رپورٹ میں جنرل ہرش پر کافی تنقید کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنے فوجیوں کو حزب اللہ کے اچانک حملے سے بچاؤ کے لیے پوری تربیت نہیں دے رکھی تھی۔ فوج نے ابھی تک جنرل ہرش کا استعفی قبول نہیں کیا ہے۔ اس جنگ میں بارہ سو لبنانی ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے جبکہ ایک سو ستاون اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر فوجی تھے۔ | اسی بارے میں ویٹو: عرب دنیا کی امریکہ پر تنقید 12 November, 2006 | آس پاس امریکہ: اسرائیل کے خلاف قرارداد ویٹو12 November, 2006 | آس پاس ایران پر حملہ کیا جا سکتا ہے: اسرائیل11 November, 2006 | آس پاس فرانس کا اسرائیل کو انتباہ10 November, 2006 | آس پاس بیت حانون جنازوں میں ہزاروں شرکاء09 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||