احتجاج جاری رہے گا: حسن نصراللہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اللہ کے رہنماء شیخ حسن نصراللہ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اکٹھے ہوئے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم فواد سنیورا کی حکومت کے مستعفی ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ بیروت کے مرکزی حصے میں کئی دن سے حکومت مخالف مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہزاروں لوگوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے مخاطب حزب اللہ کے قائد کا کہنا تھا ’لبنان کو ایک نئی حکومت کی ضرورت ہے جو بیرونی اثر سے آزاد ہو‘۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وہ اپنے ہم وطن لبنانیوں نے متصادم نہیں ہوگی۔ انہوں نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لبنانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سنیوں اور عیسائیوں سے جھگڑا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حزب اللہ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے ایران اور شام کی حمایت حاصل ہے، نے پچھلے ماہ حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ حسن نصراللہ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ اتوار کو ایک بھرپور حکومت مخالف احتجاج کے لیے تیار رہیں۔ ’ہم ثابت کر دینگے کہ ان لوگوں کو غلط فہمی
لبنانی وزیراعظم کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران انہوں نے حزب اللہ کے ذرائع رسد کو منقطع کر دیا تھا۔ حسن نصراللہ نے نام لیے بغیر وزیراعظم فواد سنیورا کی حکومت کے ایک نمائندے پر اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے کا الزام بھی لگایا۔ ان کا کہنا تھا ’حزب اللہ کو شکست دلانے کی کوشش کی گئی، تاکہ یہ کمزور ہو جائے۔ یہی لوگ جنگ کے ذمہ دار ہیں نہ کہ مزاحمتی تحریک (حزب اللہ)‘۔ ادھر وزیراعظم فواد سنیورا کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کو آخر کار ان سے مذاکرات کرنے پڑیں گے۔ ’تمام لبنانیوں کو بہرحال مل بیٹھنا پڑے گا چاہے اس میں کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگے‘۔ | اسی بارے میں ’لبنانی حکومت مستعفی ہو جائے‘01 December, 2006 | آس پاس حزب اللہ نے استعفے پیش کر دیئے11 November, 2006 | آس پاس شام،ایران اور حزب اللہ پر الزام 02 November, 2006 | آس پاس ہماری فتح تاریخی ہے: نصراللہ22 September, 2006 | آس پاس حزب اللہ کا اگلا قدم15 August, 2006 | آس پاس تباہی کے باوجود حزب اللہ مضبوط05 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||