شام،ایران اور حزب اللہ پر الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے ’بڑھتے ہوئے ثوبت‘ ہیں کہ ایران، شام اور حزب اللہ مل کر لبنانی حکومت کا تختہ الٹنے کی شازش کر رہے ہیں۔ یہ بات بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق امریکہ کو خدشہ ہے کہ شام، ایران اور حزب اللہ مل کر لبنان کی موجودہ حکومت کو گرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ شام چاہتا ہے کہ لبنان کی موجودہ حکومت اس بین الاقوامی ٹرائبیونل کو منظور نہ کرے جو مقتول لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی تفتیش کرے گا۔ بیان میں یہ تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ حزب اللہ بھی لبنانی حکومت کے خلاف کام کر رہی ہے۔ حال میں حزب اللہ نے لبنانی کابینہ میں ایک تہائی عہدوں کا مطالبہ کیا ہے اور حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصر اللہ نے اس سلسلے میں بڑے عوامی مظاہرے کرنے کی ’دھمکی‘ بھی دی ہے۔ تاہم امریکہ میں شام کے سفیر نے امریکی الزامات کو رد کرتے ہوئے انہیں ’احمقانہ‘ قرار دیا ہے۔ شام کے سفیر اعماد مسطفی نے کہا ’یہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ امریکہ جیسی بین الاقوامی طاقت اس طرح کی گھٹیہ سیاست کرے۔‘ سفیر نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز آور‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ ہمیں بالکل واضح ہونا چاہیے کہ لبنان کے اندر جو سیاسی جھگڑے ہو رہے ہیں وہ ان کی اندرونی سیاست کا حصہ ہے۔ یہ خالصتاً لبنانی معاملہ ہے۔‘ |
اسی بارے میں ’فتح‘ پر ایران اور شام کی مبارکباد15 August, 2006 | آس پاس لبنان:’قرارداد‘ پر صلاح مشورے 14 August, 2006 | آس پاس مشرق وسطیٰ بحران سے امریکہ کیا حاصل کرے گا24 July, 2006 | آس پاس جنگ بندی کی قرارداد منظور11 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||