BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 December, 2006, 19:39 GMT 00:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لبنانی حکومت مستعفی ہو جائے‘
بیروت
مظاہرین نے بیروت میں وزیراعظم کے دفاتر کے باہر جمع ہوئے
لبنان کے دارحکومت بیروت میں لاکھوں کی تعداد میں حزب اللہ کے حامیوں اور ان کے شام نواز حلیفوں نے لبنان کی حکومت کے خلاف ریلی نکالی۔

سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان مظاہرین نے وزیراعظم فواد سنیورا کے خلاف نعرے لگائے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت مستعفی نہیں ہو جاتی وہ اس طرح کے مظاہرے کرتے رہیں گے۔

یہ احتجاج لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک کڑی ہیں جو کہ شام مخالف رہنما کے قتل اور کابینہ میں پیش کیے گئے استعفوں کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔

لبنانی وزیر اعظم فواد سنیورا نے کہا ہے کہ وہ کسی احتجاجی جلوس کے دباؤ میں حکومت سے مستعفی نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ لبنانی پارلیمنٹ کی حمایت سے حکومت کر رہے ہیں اور جب تک ان کو پارلیمنٹ کی حمایت حاصل رہے گی وہ اقتدار سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

حزب اللہ کا مطالبہ ہے کہ اسے کابینہ میں زیادہ نماہندگی دی جائے جس سے ان کے پاس یہ طاقت ہو کہ وہ حکومت کے فیصلوں کو ویٹو کر سکیں۔

لبنانی فوجی حکومتی عمارتوں کی حفاظت کر رہے ہیں

بلٹ پروف گلاس سکرین کے پیچھے سے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عیسائی حزب اختلاف کے رہنما ماہیکل آون نے کہا کہ اس حکومت کی بنیاد قومی یکجہتی پر نہیں ہے اور اس بنا پر یہ غیر آہینی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’میں وزیر اعظم اور ان کے وزراء سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مستعفی ہو جائیں‘۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ اس سال موسِم گرما میں اسرائیلی فوجوں کے لبنان پر حملے کے بعد زیادہ ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ان حملوں میں جنوبی لبنان کے کئی علاقے تباہ ہو گئے تھے لیکن یہ حزب اللہ کی تحریک کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔

حزب اللہ لبنانی حکومت پر اس بات کا الزام بھی لگا رہی ہے کہ اس نے لڑائی میں اس کی حمایت نہیں کی تھی۔

شام مخالف پارٹیاں حزب اللہ پر اس بات کا الزام لگاتی ہیں کہ یہ جماعت شام کے مفادات کو اپنے ملک کے مفادات پر ترجیح دیتی ہے۔

حزب اللہ کے حامیوں اور اس کے حلیفوں کو جن میں ماہیکل آون کی پارٹی بھی شامل ہے، کو بسوں میں مظاہرے کے لیے بیروت لایا گیا اور یہ مظاہرہ لبنان کے مقامی وقت کے مطابق ایک بجے شروع ہوا۔

پولیس کے مطابق مظاہرے میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد آٹھ لاکھ تھی جبکہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھی۔

شیخ نصراللہ کی بارہا اس یقین دہانی کے باوجود کہ احتجاج پرامن رہے گا کئی اسلحہ سے لیس گاڑیاں اور سینکڑوں کی تعداد میں فوجیوں کو سرکاری عمارات کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا ۔

لبنانی وزیر اعظم فواد سنیورا نے کہا ہے کہ وہ کسی احتجاجی جلوس کے دباؤ میں حکومت سے مستعفی نہیں ہوں گے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کِم گھٹاس کے مطابق بیروت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہاں ایمرجنسی نافذ ہو۔

شام مخالف رہنما ولید جمبلت نے بی بی سی کو بتایا کہ حزب اللہ سابقہ وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والے بین الاقوامی ٹریبیونل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حالیہ حکومت نے پچھلے سال اس وقت اقتدار سنبھالا تھا، جب شامی فوجیں جنھیں لبنان میں جاری خانہ جنگی کے باعث تعینات کیا گیا تھا، لبنان سے واپس گئیں تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد