لبنانی وزیراعظم کےخلاف مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جمعہ کوحزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں حزب اللہ کی قیادت میں وزیراعظم فواد سنیورا کے خلاف سڑکوں پر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے وزیر اعظم فواد سنیورا نے کہا تھا کہ ان کی حکومت کو عوامی احتجاج کے ذریعہ نہیں گرایا جا سکتا۔ حزب اللہ اور اس کی حلیف جماعت کے وزیرفواد سنیورا کی کابینہ سے مستفعی ہو چکے ہیں۔ لبنانی وزیر اعظم فواد سنیورا نے کہا کہ وہ کسی احتجاجی جلوس کے دباؤ میں حکومت سے مستعفی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لبنانی پارلیمنٹ کی حمایت سے حکومت کر رہے ہیں اور جب تک ان کو پارلیمنٹ کی حمایت حاصل رہے گی وہ اقتدار سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ادھر حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے اپنی حامیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمعہ کے روز حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک ہوں۔ حزب اللہ تنظیم کئی ہفتوں سے سڑکوں پر نکل آنے کی دھمکی دیتی رہی ہے۔ ٹی وی پر خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نےتمام مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لبنانیوں پرزور دیا تھا کہ وہ اس پرامن تحریک کا حصہ بنیں۔ حزب اللہ اور اس کے حامیوں نے وزیر اعظم فواد سنیورا پر الزام لگایا ہے کہ وہ امریکہ کی ہدایات پر چلتے ہیں۔ حزب اللہ کا یہ بھی کہنا ہے انہوں نے اس سال گرمیوں میں اسرائیل کے ساتھ جنگ میں حزب اللہ کا ساتھ نہیں دیا۔ حزب اللہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے ایران اور شام کی حمایت حاصل ہے ، کا مطالبہ تھا کہ اسے حکومت میں زیادہ نشستیں دی جائیں تاکہ ان کے پاس یہ طاقت ہو کہ وہ کابینہ کے فیصلوں کو ویٹو کرسکیں۔ لیکن لبنان کی پارلیمان کی اکثریت نے حزب اللہ کے اس مطالبے کو رد کیا ہے۔ حزب اللہ لبنان کی سب سے اہم عسکری طاقت ہے جس کی حمایت کا بہت بڑا منبع وہ شیعہ آبادی ہے جو اس علاقے میں رہتی ہے جہاں سے اسے نکلنے کے لیئے کہا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں لبنان کی تباہی کی ویڈیو20 July, 2006 | صفحۂ اول لبنان کا بحران: آپ کے سوال ، ہمارے جواب20 July, 2006 | صفحۂ اول ’عرب دنیا اور بڑھتا ہوا شیعہ اثر‘24 October, 2006 | آس پاس شام،ایران اور حزب اللہ پر امریکی الزام 02 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||