’عرب دنیا اور بڑھتا ہوا شیعہ اثر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے ایک بڑے مذہبی عالم نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شیعہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عراق کی موجودہ صورتحال سے سُنیوں میں شیعہ ہونے کا رحجان بڑھ سکتا ہے۔ عرب ٹی وی ’الجزیرہ‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں راسخ العقیدہ سُنی عالم سلام الاودھے کا کہنا تھا ’عراق میں شیعہ گروہوں کی مضبوط سیاسی حیثیت اور حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف حالیہ کارکردگی سے کئی سنُیوں میں شیعت کے لیئے احترام بڑھ رہا ہے‘۔ سلام الاودھے کا کہنا تھا ’احترام کا یہ جذبہ سنُیوں کو شیعت کی طرف راغب کرنے کے لیئے کارگر ثابت ہورہا ہے‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سنُیوں کو تشیعت کی طرف مائل کرنے کے لیئے دوسرے ذرائع مثلاً روپے پیسوں کا لالچ اور روزگار کی پیشکش وغیرہ بھی استعمال کیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ہمسایہ ملک عراق میں شیعہ گروہوں کی مدد کر رہا ہے۔ ’ایران کھلے عام عراقی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور اس کے کئی ثبوت موجود ہیں‘۔ سلام الاودھے کا کہنا تھا کہ عراق میں شیعہ تنظیموں کی مدد کے لیئے بھاری وسائل استعمال کیئے جا رہے ہیں اور ایرانی خفیہ اداروں کا ایک مضبوط نیٹ ورک بھی وہاں کام کر رہا ہے۔ ’نتیجتاً عراق میں طاقت کا توازن بگڑ گیا ہے اور خود کش حملہ آوروں کو سنُیوں کے خاتمے کے لیئے استعمال کیا جارہا ہے‘۔ سعودی عرب میں اکثریتی آبادی ’وہابی‘ ہے، جسے سنی فرقہ کا ایک انتہائی رجعت پسند مکتبِ فکر سمجھا جاتا ہے، جو شیعوں کو ’مشرک‘ خیال کرتی ہے۔ اس صحرائی سلطنت میں شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد آبادی کا صرف دس فیصد ہیں۔ | اسی بارے میں عراق: حزب اللہ کے حق میں مظاہرہ04 August, 2006 | آس پاس شدت پسندوں کی مدد کا الزام23 June, 2006 | آس پاس نئی عراقی حکومت کی منظوری20 May, 2006 | آس پاس عراق میں امن کے لیے مذاکرات26 February, 2006 | آس پاس انتخابات: سنی جماعتوں کا احتجاج 23 December, 2005 | آس پاس عراقی سنّی، مداخلت کی اپیل28 August, 2005 | آس پاس سنی موقع ضائع نہ کریں: زبیری 24 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||