انتخابات: سنی جماعتوں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں سنی کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملک کے مخلتف شہروں میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ ملک میں حالیہ انتخابات کے جزوی نتائج کے بعد ملک کی سنی اور سیکولر شیعہ جماعتوں کی جانب سے نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ جزوی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ اور کرد جماعتوں نے ان انتخابات میں اکثریت حاصل کی ہے۔ نئے انتخابات کے انعقاد کی بات کرنے والوں میں سابق وزیراعظم ایاد علاوی بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے عراقی الیکٹوریل کمیشن کے ایڈوائزر نےملک میں دوبارہ انتخابات کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورت حال ایسی نہیں ہے کہ نئے انتخابات کے انعقاد کامطالبہ کیا جائے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نئے انتخاب کے انعقاد کا حتمی فیصلہ الیکٹوریل کمیشن ہی کرے گا۔ عراق کے صدر جلال طالبانی کے مطابق انہوں نےمختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقات کے دوران انہیں ملک میں جاری سیاسی عمل میں شامل رہنے کی تلقین کی ہے۔ | اسی بارے میں برطانوی وزیراعظم عراق پہنچ گئے22 December, 2005 | آس پاس عراق: مضبوط قیادت کی خواہش 15 December, 2005 | آس پاس عراق میں ووٹنگ کے آغاز پر دھماکہ 15 December, 2005 | آس پاس عراقی پارلیمان کے لیے ووٹنگ، دھماکے15 December, 2005 | آس پاس عراق: اختیارات کےحصول کی دوڑ 19 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||